دبئی: متحدہ عرب امارات نے ویزہ ایمنسٹی کے متلاشیوں کے لیے ایگزٹ پاس کی میعاد میں توسیع کردی۔
خلیج ٹائمز کے مطابق متحدہ عرب امارات حکام نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ جن اوور سٹیئرز کو ویزہ ایمنسٹی دی گئی ہے اب ان کے پاس ملک چھوڑنے کے لیے 31 اکتوبر تک کا وقت ہے، اس سے پہلے معافی کے متلاشیوں کو دیا جانے والا ایگزٹ پاس صرف 14 دنوں کے لیے کارآمد تھا، اب اس رعایتی مدت کو سکیم کے اختتام تک بڑھا دیا گیا ہے۔
کلائنٹ ہییپی نیس ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر لیفٹیننٹ جنرل سالم بن علی نے بتایا کہ یو اے ای حکومت نے اوور سٹیئرز کو ان کی روانگی کی ٹائم لائن میں مزید لچک فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، پہلے جن لوگوں نے عام معافی کا فائدہ اٹھایا، انہیں اس کے موصول ہونے کے 14 دنوں کے اندر ملک چھوڑنا پڑتا تھا لیکن آج ہم نے معافی کی مدت کے اختتام تک اس رعایتی مدت کو بڑھا دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ توسیعی مدت عام معافی کے متلاشیوں کو جاری کردہ آؤٹ پاس پر واضح طور پر بیان کی جائے گی، جس سے انہیں اس وقت کے اندر کسی بھی وقت ملک چھوڑنے کی اجازت دی جائے گی، تاہم اوور سٹیئرز پر زور دیا جاتا ہے کہ وہ جلد از جلد یو اے ای سے اپنے آبائی ممالک چلے جائیں ورنہ روانگی میں تاخیر کی وجہ سے انہیں فلائٹ ٹکٹوں کے لیے زیادہ ادائیگی کرنا پڑسکتی ہے کیوں کہ موسم سرما کے مصروف موسم میں ہوائی کرایوں میں اضافہ ہوتا ہے، اس لیے ہم معافی کے متلاشیوں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ روانگی کے آخری لمحے تک انتظار نہ کریں۔
اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات کی ویزہ ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھانے والوں کے لیے ہزاروں نوکریاں بھی دستیاب ہیں، کمپنیاں ایمنسٹی سینٹرز میں ہی انٹرویو کرکے نئے کارکنوں کی خدمات حاصل کررہی ہیں جہاں دو ماہ پر مشتمل ویزہ ایمنسٹی سکیم کے تحت متحدہ عرب امارات میں اپنے قیام کو قانونی حیثیت دینے کی کوشش کرنے والے افراد کو ملازمتوں کی پیشکش کی جا رہی ہے۔
جنرل ڈائریکٹوریٹ آف ریذیڈنسی اینڈ فارن افیئرز ( جی ڈی آر ایف اے ) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل محمد احمد المری نے بتایا کہ پرائیویٹ سیکٹر کی کمپنیوں کو ملازمتوں کے لیے لوگوں سے انٹرویو کرنے کے لیے مدعو کیا گیا ہے، ہم نے کمپنیوں کو ملازمتوں کے لیے لوگوں کے انٹرویو کے لیے مدعو کیا، جب تک ہم ان کے مسائل حل نہیں کر لیتے ہم چوبیس گھنٹے کام کریں گے اور رکیں گے نہیں۔


