جہلم: ریت، بجری اور اینٹوں سے لوڈ ٹریکٹر ٹرالیاں اندرون شہر کی سڑکوں پر رواں دواں، ٹریفک کا جام ہونا معمول بن گیا، شہری خوف و ہراس میں مبتلا ہیں۔
تفصیلات کے مطابق تعمیراتی سامان سے لوڈ تیز رفتار انتہائی خطرناک ٹریکٹر ٹرالیوں نے شہر کی سڑکوں کو تباہ و برباد کرنے کی ٹھان لی۔ کم عمر ڈرائیورز سڑکوں پرٹریکٹر ٹرالیاں تیز رفتاری کے ساتھ ساتھ اونچی آواز میں ٹیپ ریکارڈر اور کانوں میں ہینڈ فری لگا کر موبائل فون پر گانے سنتے دکھائی دیتے ہیں جس کیوجہ سے پیچھے سے آنے والی گاڑیوں ، کاروں ، موٹر سائیکل سواروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ٹریکٹر ٹرالیوں کے مالکان تعمیراتی سامان پرترپال ڈالنے کی بجائے کھلا چھوڑ دیتے ہیں ، جس کی وجہ سے سڑک کے دونوں اطراف موجود دکانداروں اور پیچھے سے آنے والے موٹر سائیکل اور سائیکل سواروں کی آنکھوں میں دھول مٹی پڑتی ہے اور حادثات رونما ہوتے ہیں۔
یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ کریشن مشینوں سے اندرون شہر آنے والے ٹریکٹر ٹرالیاں انتہائی دیدہ دلیری کے ساتھ شہر کے داخلی و خارجی راستوں سے داخل ہوتے ہیں جس کی بنیادی وجہ داخلی و خارجی راستوں پر ٹریفک پولیس کے افسران و اہلکاروں کا موجود نہ ہونا ہے۔
بلا ل ٹاؤن، روہتاس روڈ سے تعمیراتی سامان لیکر آنے والے ٹریکٹر ڈرائیورزجادہ ، مجاہد آباد، لاری اڈہ جبکہ بلال ٹاؤن کی طرف سے آنے والے ٹریکٹرز کچہری روڈ ، سول لائن روڈ کا استعمال کرتے ہوئے شہرکے اندر داخل ہو جاتے ہیں ۔مذکورہ سڑکوں پر نوپارکنگ کے بورڈ بھی انتظامیہ نے آویزاں کروا رکھے ہیں۔
شہریوں نے ڈی پی او اور ڈی ایس پی ٹریفک سے مطالبہ کیا ہے کہ اندرون شہر میں دن کے اوقات میں تعمیراتی سامان لیکر آنے والی ٹریکٹر ٹرالیوں کے ڈرائیورز پر پابندی عائد کی جائے ، رات 11 بجے سے صبح 4 بجے تک تعمیراتی سامان منتقل کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ شہریوں کو پیش آنے والی مشکلات کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔


