جہلم شہر اور گردونواح کے علاقوں میں غیر معیاری اور ناقص آٹے کی کم وزن روٹی کی مہنگے داموں فروخت جاری، شہری بیماریوں میں مبتلا ہونے لگے، روٹی و نان کی قیمتوں میں خود ساختہ اضافہ، شہر بھر کے درجنوں سے زائد تندوروں پر چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کے برابر، تندور و نان بائیوں نے روٹی کے وزن میں بھی غیر معمولی کمی کر دی۔
تفصیلات کے مطابق جہلم شہر سمیت ضلع بھر کے تندور مالکان نے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی عدم دلچسپی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے روٹی کے نرخوں میں خود ساختہ اضافہ کرکے وزن میں کمی کردی ہے جس کی وجہ سے غریب سفید پوش طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد زہنی کوفت میں مبتلا ہو چکے ہیں۔
شہریوں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ حکومت پنجاب نے روٹی کا وزن 100 گرام مقرر کرکے روٹی کی قیمت 20روپے مقرر کررکھی ہے جبکہ تندور مالکان اور نان بائیوں نے روٹی کی قیمت 25 روپے جبکہ نان کی قیمت 30 روپے وصول کرنی شروع کررکھی ہے۔ چیک اینڈ بیلنس کا نظام مفلوج ہونے کیوجہ سے تندور مالکان و نان بائیوں نے خود ساختہ نرخ مقرر کرکے روٹی کے وزن میں بھی کمی کردی ہے۔
شہریوں نے ڈپٹی کمشنر جہلم اور ایڈوائزمحتسب پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ نرخوں میں خود ساختہ اضافہ اور وزن میں کمی کرنے والے تندور مالکان و نان بائیوں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کروائے جائیں تاکہ محنت کش طبقہ حکومت کے مقررکردہ نرخوں پر روٹی خرید کر بچوں کا پیٹ پال سکے۔


