جہلم: یوم عاشورکی آمد کے باعث شہریوں کی جانب سے اپنے پیاروں کی قبروں پر حاضری و فاتحہ خوانی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار قبروں کی مرمت اور پھول نچھاور کرنے کیلئے قبرستانوں کا رخ کر نے کا سلسلہ جاری و ساری ہے جبکہ پھول بیچنے والوں اور گورکنوں کا کاروبار بھی خوب چمک اٹھا۔
قبرستانوں میں جہاں عام دنوں میں ویرانیاں چھا ئی رہتی ہیں، وہاں یوم عاشورکے باعث بڑی تعداد میں شہری اپنے ۱ٓبا و اجداد، والدین،بیوی بچوں،بہن بھائیوں اور دیگر عزیز رشتہ داروں کے ہمراہ داغ مفارقت دے جانیوالے اپنے پیاروں کی قبروں پرحاضری، قرآن پاک کی تلاوت،فاتحہ خوانی،قبروں کی مرمت کرنے کیساتھ ساتھ ان پر پھول نچھاور کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔
دوسری جانب قبرستانوں کے باہر بیٹھے گورکنوں کا بھی خوب کمائی کا سلسلہ جاری ہے جو ایک قبر پر مٹی ڈالنے اور اس کی لپائی کرنے کیلئے 600سے 800روپے تک وصول کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔
گورکنوں کا کہنا ہے کہ سال میں ایک بار ہی محرم الحرام کے موقع پراکثریتی لوگ بڑی تعداد میں اپنے پیاروں کی قبروں پر حاضری دینے کیلئے آتے ہیں اسلئے مہنگائی کے تناسب سے ہم عام دنوں کی نسبت کچھ زیادہ پیسے وصول کرلیتے ہیں اسی طرح پھول،اگر بتیاں،ٹوٹا چاول،دال وغیرہ فروخت کرنے والے بھی اپنی مرضی کے نرخوں پر اشیا فروخت کر تے دکھائی دیئے۔
اس موقع پرقبرستانوں میں موجود بعض بزرگ شہریوں کا کہناتھا کہ عشرہ محرم الحرام میں قبرستان آنے کی روایت صدیوں پرانی ہے اور اگر انسان یہاں آتا جاتا رہے تو یہ احساس ہوتا ہے کہ ایک دن ہم نے بھی شہر ِ خاموشاں میں مستقل سکونت اختیار کرنی ہے ۔
انہوں نے بتایا کہ قبرستان میں آکر دعا کرنا اسلئے بھی افضل ہے کہ سانحہ کربلا اور حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی اور ان کے صبرو استقلال کی مثال ہمارے سامنے آجاتی ہے جس سے نیک اعمال کرنے کا جذبہ بیدار اور ظلم کے سامنے کلمہ حق کہنے کی ہمت پیدا ہوجاتی ہے۔


