لندن: جسٹس سیکرٹری شبانہ محمود نے کہا ہے کہ ساؤتھ پورٹ واقعہ کے بعد انتشارکااثربرسوں رہے گا،،سیکڑوں گرفتاریاں نظام انصاف کی تعمیر نو کی کوششوں میں رکاوٹ بنیں گی، یہ نظام ہمیں کنزویٹو سے وراثت میں ملا، عدالتوں میں زیرالتوا مقدمات کی بھرمارہے،جیلوں میں گنجائش کم رہ گئی تاہم قانون فسادیوں سے پوری قوت کے ساتھ نمٹے گا،پراسیکیوشن اورعدلیہ کی کاوشیں قابل تحسین ہیں،انتہا پسندی کو اپنی تمام شکلوں میں برطانوی سیاست دانوں نے طویل عرصے سے نظر انداز کیا،خوفناک فسادات جمہوری نظام پر عوامی اعتمادکم کرنے کے باعث بنیں گے۔
ایک اخباری مضمون میں شبانہ محمود نے تحریر کیا کہ ساؤتھ پورٹ میں پیش آئے واقعہ کے بعد آن لائن غلط معلومات پھیلائے جانے کے اثرات کئی ماہ اوربرسوں تک محسوس کئے جائیں گے۔ مقامی اخبار میں لکھے مضمون میں شبانہ محمود کا مزید کہنا تھا کہ فساد میں ملوث افراد کو تیزی سےسزا سنانے کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے حکومت کے نظام انصاف کو ’’دوبارہ بنانے‘‘ کو مشکل بنا دے گا۔
واضح رہے کہ جسٹس سیکرٹری کا یہ مضمون اس وقت سامنے آیا ہے جب پبلک پراسیکیوشن سروس کے ڈائریکٹر سٹیفن پارکنسن نے کہا کہ فساد میں ملوث افراد کو دس برس تک کی سزا بھی ہوسکتی ہے اور آنےوالے دنوں میں ملوث افراد پرمزید سنگین الزامات کے کیسز بھی سامنے آئیں گے۔
جسٹس سیکرٹری شبانہ محمود نے تیز اور حقیقی انصاف کو یقینی بنانے کیلئے پراسیکوٹرز اور عدلیہ کی تعریف کی اور کہا کہ اس چیلنج کا مقابلہ کرنا مشکل ہوگا۔ یہ نظام ہمیں کنزویٹو سے وراثت میں ملا، عدالتوں میں زیرالتوا مقدمات کی بھرمارہے۔
جولائی میں شبانہ محمود نے کہا تھا کہ جیل کے نظام کو بچانے کیلئے قیدیوں کی جلد رہائی کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ انہوں نے فسادیوں کوبھی متنبہ کیا کہ قانون ان سے پوری قوت کے ساتھ نمٹے گا۔ ان کاخیال ہے کہ _ پرتشدد ہنگاموں کے بعد کی گئی سیکڑوں گرفتاریاں بحران زدہ فوجداری انصاف کے نظام کی تعمیر نو کی کوششوں میں رکاوٹ بنیں گی۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ لیبر پارٹی کی حکومت کو کوئی غلطی نہیں کرنی چاہیے۔ ہمیں کنزرویٹو سے وراثت میں ملنے والے انصاف کے نظام میں ایسا کرنے سے اس چیلنج کا مقابلہ کرنا مشکل تر بنا دیا گیا ہے،ان کی ناکامی کی وجہ سے، ہمارے پاس ریکارڈ کراؤن کورٹ بیک لاگ ہیں۔ ہمارے پاس جیلیں بہت زیادہ اوور فلو ہونے کے قریب رہ گئی تھیں جس کے باعث ہمارے پاس کچھ قیدیوں کو ان کی جیلوں کی سزاؤں کے ختم ہونے سے چند ہفتے یا مہینے پہلے رہا کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہ گیا تھا۔خرابی کے ان دنوں کے اثرات آنے والے مہینوں اور سالوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ وہ نظام انصاف کی تعمیر نو کے کام کو مشکل بنا دیتے ہیں۔
انہوں نے انسداد انتہا پسندی کی حکمت عملی کے ساتھ ساتھ انتہا پسندی کے پروپیگنڈے، قانونی لیکن نقصان دہ مواد اور انتہا پسندانہ سازشی نظریات سے نمٹنے کے لیے قانون سازی میں خلا کو ختم کرنے کی ضرورت کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔ _ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ انتہا پسندی کو اپنی تمام شکلوں میں برطانوی سیاست دانوں نے طویل عرصے سے نظر انداز کیا ہے اور یہ تسلیم کیا ہے کہ نئی لیبر حکومت کو درپیش چیلنج ایک ایسا ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے مزید متنبہ کیا ہے کہ یہ خوفناک فسادات اور ہمارے جمہوری ماڈل پر اعتماد کو ختم کرتے ہوئے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ سماجی ہم آہنگی جیسے طویل مدتی پالیسی کے شعبوں کو نظر انداز کرنا اب ناقابل برداشت ہے۔


