جہلم: پنجاب کے شہر جہلم کی ایک عدالت نے سارہ شریف کے دادا کو ان کے بہن بھائیوں کی قانونی سرپرستی دے دی۔
پانچوں بچے، جن کی عمریں اب 4 سے 16 سال کے درمیان ہیں، 2023 سے پاکستان میں مقیم ہیں، اِسی سال ہی والد اور سوتیلی ماں کے ہاتھوں دس سالہ سارہ شریف اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی تھی۔
عدالت میں جج نے بچوں سے بات کی، سب سے بڑے بچے نے کہا کہ وہ یہاں مطمئن ہیں اور تمام بہن بھائی حالات کے ساتھ ہم آہنگ ہو چکے ہیں۔

جہلم کے علاقے جنجیل کے رہائشی سارہ شریف کے دادا محمد شریف نے بی بی سی کو بتایا کہ 3 سال کی قانونی لڑائی کے بعد سرپرستی ملنے پر انھیں سکون محسوس ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ بچے صحت مند رہیں اور انھیں اچھی تعلیم ملے ’’یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں یقینی بناؤں کہ انھیں بہترین ممکنہ تعلیم اور دیکھ بھال میسر ہو۔‘‘
پانچوں بچے اگست 2023 سے پاکستان میں ہیں، اسی مہینے سارہ کے والد، سوتیلی ماں اور چچا، سارہ کے قتل کے بعد ان بچوں کو پاکستان لے آئے تھے۔ خاندان کئی ہفتوں تک روپوش رہا، یہاں تک کہ پولیس نے بچوں کو ان کے دادا کے گھر سے ڈھونڈ نکالا۔ ابتدا میں بچوں کو ریاستی نگہداشت میں دے دیا گیا تھا۔
بعد ازاں تینوں بڑے واپس برطانیہ چلے گئے، جہاں ایئرپورٹ پر انھیں گرفتار کر لیا گیا، سارہ کے والد عرفان شریف اور سوتیلی ماں بینش بتول کو قتل کا مجرم قرار دیا گیا۔ عرفان شریف کو کم از کم 40 سال اور بینش بتول کو کم از کم 33 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ سارہ کے چچا فیصل ملک کو اس کی موت کا سبب بننے یا اسے موت سے بچانے میں ناکام رہنے کا مجرم قرار دیا گیا اور 16 سال قید کی سزا دی گئی۔
سارہ کو دو سال تک جاری رہنے والی ’’تشدد کی مہم‘‘ کے دوران سر پر کپڑا ڈال کر، جلایا اور مارا پیٹا گیا تھا۔ اس کی لاش سرے کے علاقے ووکنگ میں خاندان کے گھر سے ملی تھی۔
دادا کے مطابق سب سے چھوٹے بچے کے سوا باقی تمام بچے اب پاکستان میں اسکول جا رہے ہیں۔ ہفتے کے روز عدالتی فیصلے کے بعد بات کرتے ہوئے بچوں کے دادا نے کہا ’’ہم ان کی معمول کی زندگی کی طرف واپسی میں مدد کریں گے۔‘‘
محمد شریف نے بتایا کہ وہ اپنے قاتل بیٹے عرفان سے ہفتے میں ایک بار یا ہر دوسرے ہفتے بات کرتے ہیں۔ ان کے بقول ’’بچوں کے بارے میں نہیں، مقدمے کے بارے میں نہیں۔ کسی اور معاملے پر بھی نہیں، بس ایک دوسرے کی خیریت دریافت کرنے کے لیے۔‘‘
بچوں کے دادا نے کہا کہ بہن بھائیوں کے پاس برطانوی پاسپورٹ برقرار رہیں گے اور وہ ’’مناسب عمر کو پہنچنے پر‘‘ برطانیہ واپس چلے جائیں گے۔
واضح رہے کہ انگلینڈ میں بچوں کو عدالت کی تحویل میں دے دیا گیا تھا، جب کہ سرے کاؤنٹی کونسل پاکستان کی عدالتوں کے ذریعے انھیں واپس برطانیہ لانے کی کوشش کر رہی تھی۔ دوسری طرف دادا بچوں کو اپنے پاس رکھنے کے لیے قانونی جدوجہد کرتے رہے۔ سرے کاؤنٹی کونسل نے جون میں مقدمے سے دست بردار ہونے کا اعلان کر دیا تھا۔


