برمنگھم: صدر تحریک کشمیر برطانیہ فہم کیانی نے کہا ہے کہ برٹش کشمیری پاکستانی اور کشمیر کے سپورٹرز امید کرتے ہیں پرو کشمیر ایم پیز مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کیلئے لیبر کی برطانوی حکومت کو مجبور کریں گے اس کو حکومتی پالیسی کا حصہ بنایا جائے۔
انہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہبرطانوی حکومت کو ماضی کے فرسودہ بیانیہ جموں و کشمیر ایشو دو ممالک کے درمیان ایک مسئلہ ہے پاکستان اور بھارت کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق اس مسئلہ کا حل نکالیں کوترک کرنا چاہئے ۔ لیبر کی برطانوی حکومت اس بیانیہ کے پیچھے زیادہ دیر تک نہیں چھپ سکتی۔ جموں و کشمیر دو ممالک کے درمیان ایک تنازعہ نہیں بلکہ یہ دو کروڑ تیس لاکھ لوگوں کے پیدائشی حق خود ارادیت کا مسئلہ جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت حل طلب ہے۔
فہیم کیانی نے مزید کہا کہ حالیہ الیکشن میں بڑی تعداد میں برطانوی وزیراعظم کئیر سٹامر کے فلسطین و کشمیر کے بیانات پر بھرپور غصہ کا اظہار کرتے ہوئے آزاد امیدواروں کو ووٹ دیا ۔ماضی میں جو سیٹیں لیبر بھاری اکثریت میں جیتتی تھی اب وہ چند سو ووٹوں سے جیتی ہیں برطانوی وزیراعظم کئیر سٹامر نوشتہ دیوار پڑھ لیں۔ اگر فلسطین و کشمیر پر اسرائیلی و بھارتی قبضہ کےخلاف واضح پالیسی نہ رکھی تو اگلے الیکشن میں جو آج لیبر کے ساتھ اس امید سے کھڑے تھے وہ راہیں بدل سکتے ہیں۔ لیبر حکومت فلسطین کے ساتھ ساتھ کشمیر مسئلہ کو حل کرنے کے لئے پیشرفت کرے ۔
فہیم کیانی صدر تحریک کشمیر برطانیہ نے مزید کہا کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں روزبروز اضافہ ہورہا ہے۔ ہزاروں کشمیریوں کو بے گناہ پاپند سلاسل کیا ہے۔ ان کا جرم یہ ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردوں کے مطابق اپنا حق مانگتے ہیں۔
فہیم کیانی نے مزید کہا کشمیر کو حکومتی پالیسی کا حصہ بنانے اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے ایک واضح حکمت سے آگے بڑھیں گئے ۔ فہیم کیانی نے کمیونٹی سے اپیل کی ایم پیز کو مقبوضہ کشمیر کی تازہ صورتحال سے آگاہ کرنے کے لیے مسلسل خطوط یا ای میلز کریں ۔


