جہلم: محکمہ سوئی نادرن گیس پائپ لائن جہلم کے ذمہ داران کی عدم دلچسپی، بااثر صارفین کی موجیں، کمپریسر نے غریبوں کے چولہے ٹھنڈے کر دیے۔ کمپریسر سوئی گیس کی بندش میں اپنا کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ محکمہ سوئی گیس کی جانب سے تا حال کسی قسم کی کوئی کاروائی نہیں کی گئی۔ بااثر ہوٹل ،تندور بیکری سویٹس شاپ مالکان دیدا دلیری کے ساتھ کمپریسروں کااستعمال جاری اور فروخت کرنے والے دکاندار کمپریسر کی فروخت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق سردیاں شروع ہوتے ہی سوئی گیس کی اعلانیہ غیر اعلانیہ لوڈ شیڈ نگ عروج پر پہنچ چکی ہے رہی سہی کسربااثر کارروباری شخصیات جدید کمپریسر لگا کرنکال رہے ہیں۔جسکی وجہ غریب اور سفید پوش طبقہ مہنگے داموں ایل پی جی سلنڈریا لکڑیاں خرید کر اپنی زندگی کے دن گزار رہے ہیں۔
کمپریسر کی وجہ سے گیس کا نام ونشان تک نہیں ہوتا ۔ بچے بھوکے سکولوں کو جاتے ہیں جبکہ مزدور بغیر ناشتے کے حکومت کوکوستے کاموں پر روانہ ہوتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے کمپریسر کی خرید و فروخت پر کسی قسم کی کوئی پابندی عائد نہیں جس کی وجہ سے سر عام غریبوں کے چولہوں پر ڈا کا ڈالا جا رہا ہے۔
غریبوں اور سفید پوشوں کی اکثریت نے وزیراعظم پاکستان وفاقی وزیر پٹرولیم سے مطالبہ کیا ہے کہ ہمارے حال پر رحم کرتے ہوئے کمپریسر کے استعمال پر سخت پابندی عائد کی جائے اور جو لوگ کمپریسر کی فروخت اور استعمال میں ملوث ہیں ان کے خلاف فوجداری مقدمات اور بھاری جرمانے اور سزائیں دی جائیں ۔ تاکہ غریبوں کے چولہوں کی آگ جل سکے ۔


