جہلم شہرمیں لاؤڈ سپیکر پر بھیک مانگنے اور پھیری لگا کر اشیاء فروخت کرنے والوں نے شہریوں کا جینا دو بھر کردیا۔گھروں میں پڑے ضعیف العمر بیمار افراد،سکول و کالجز کا ہوم ورک کرتے طلبا اور مساجد میں عبادت کرتے نمازی شور شرابے سے تنگ آگئے۔
تفصیلات کے مطابق ملک کے دیگر شہروں کی طرح جہلم شہر کے گلی محلوں میں بھی لاؤڈ سپیکر پر اونچی آواز میں پیشہ ور بھکاریوں نے بھیک مانگنے اور پھیری لگاکر مختلف کھانے پینے کی اشیاء و دیگر اشیا جن میں کپڑا،جوتے،برتن فروخت کرنے اور سوکھی روٹیاں اور سامان کباڑخریدنے کے انوکھے انداز اپناتے ہیں۔
صبح ہوتے ہی لاؤڈ سپیکر پر جہاں پیشہ ور بھکاریوں کی صدائیں سنائی دیتی ہیں وہاں چھلی لے لو،گول گپے لے لو،آلو چنے لے لو،پتیسہ لے لو،پریشر کو کر ٹھیک کروالو،ہاضمے دار پھکی لے لو،غر ض یہ کہ ہر چیز فروخت کرنے والے موبائل دکانداروں نے لاؤڈ سپیکر کا سہارا لیا ہوا ہے۔
سماجی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر جہلم اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جہلم سے نوٹس لینے کامطالبہ کیا ہے۔


