جہلم: پاک فوج کے ہیرو میجر ملک محمد اکرم شہید نشان حیدر کا 53 واں یوم شہادت 5دسمبر کو انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔
اس سلسلے میں ان کی یادگار پر پاک فوج کی طرف سے پروقار تقریب منعقد کی گئی جبکہ مساجد میں قرآن خوانی کی تقریبات منعقد کی گئیں ، شہریوں کی طرف سے انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
میجراکرم شہید مادر وطن کا جرات سے دفاع کرتے ہوئے شہید ہوئے، ان کی مثالی جرات و بہادری مادروطن کےمحافظوں کی پہچان ہے، ان کا یوم شہادت افواج پاکستان کی وطن کیلئےدی جانےوالی قربانیوں کا مظہر ہے۔
میجر ملک محمد اکرم 4 اپریل 1938 کو کھاریاں کےگاؤں ڈنگہ میں پیداہوئے لیکن بنیادی طور پر ان کا تعلق جہلم کے گاؤں نکہ کلاں سے تھا۔
میجر محمد اکرم کے خاندان کے بیشتر افراد کا تعلق فوج سے ہونے کے باعث ان کو دلیری وراثت میں ملی تھی۔ میجر محمد اکرم نے1961 میں فوج میں شمولیت اختیارکی اور 4 فرنٹئیر فورس رجمنٹ کا حصہ بنے اور 1970میں میجرکےرینک پر فائزہوئے۔
سال 1971میں بھارت نےمشرقی پاکستان میں دہشتگردی کیلئےمکتی باہنی کےدہشتگردوں کی تربیت کاآغازکیا اور پاک فوج کے بہادرسپاہیوں نے بھارتی سازش اور دہشت گرد کارروائیوں کا دلیری سے مقابلہ کیا۔
میجرمحمداکرم اوران کےساتھی8ماہ سےلڑائی میں دشمن کاڈٹ کرمقابلہ کررہےتھے ، دشمن نے بھاری جنگی سازوسامان کی مددسےضلع دیناج پورہلی سیکٹرپرحملہ کردیا ، اس شدیدترین حملےکاسامناائیرسپورٹ کےبغیرپاک فوج کاایک انفنٹری ڈویژن کر رہا تھا۔
میجرمحمداکرم اوران کی قلیل نفری نےحیران کن کارنامےدکھاتےہوئےان حملوں کوبہادری سےپسپاکیا ، دشمن ہلی سیکٹرپرقبضہ کرکےمشرقی پاکستان کےباقی ماندہ علاقوں کی سپلائی معطل کرناچاہتاتھا لیکن میجرمحمداکرم اورانکےساتھیوں نے کئی روز تک بھارتی پیش قدمی کوروکےرکھا۔
اس اہم ترین معرکے میں میجرمحمداکرم نے لازوال جرأت و شجاعت کامظاہرہ کیا اور آخری وقت تک لڑتےرہے، بالآخر شہادت کے عظیم رتبے پر فائزہوگئے۔
میجرمحمداکرم کوفرض کی ادائیگی،جان کانذرانہ پیش کرنےکےاعتراف میں نشان حیدرکےاعزازسےنوازاگیا۔
شہید کی یادگار جہلم شہر کے عین وسط میں واقع ہے جہاں روزانہ سینکڑوں شہری یادگار پر حاضری دیتے اور میجر ملک محمد اکرم شہید کو خراج تحسین پیش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔


