دینہ: جماعت اہلِ سنت پاکستان راولپنڈی ڈویژن کے زیر اہتمام تحفظ ناموس رسالت ﷺ سیمینار دینہ کے نجی ہوٹل میں منعقد ہوا۔ سیمینار کی صدارت ڈویژنل امیر پیر سید قدیر حسین شاہ کاظمی نے کی جبکہ مرکزی نائب ناظم اعلیٰ اول پروفیسر حمزہ مصطفائی مہمانِ خصوصی کے طور پر شریک ہوئے۔
سیمینار میں وفاقی علاقہ جات و گلگت بلتستان کے صوبائی امیر پیر سید شبیر حسین شاہ گیلانی، عمران خلیل ایڈووکیٹ، ابو ہریرہ ایڈووکیٹ، ناظم اعلیٰ راولپنڈی ڈویژن صاحبزادہ محمد عثمان غنی، امیر ضلع جہلم علامہ عصمت اللہ سیالوی، ناظم اعلیٰ ضلع راولپنڈی علامہ رضا المصطفیٰ نورانی، ناظم سنی یوتھ ونگ سید عرفان الحسنی سمیت مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام، وکلاء، تاجر رہنما اور معززین علاقہ نے شرکت کی۔
سیمینار میں مختلف علمائے کرام اور مہمانانِ گرامی نے تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ تمام دینی قوتوں کا مشترکہ فریضہ ہے۔ مولانا محمد عمر، رکن ضلعی امن کمیٹی (دیوبندی مکتب فکر) نے کہا کہ ہم تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے لیے عاشقان رسول کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، جبکہ مسلک اہلحدیث کے ایک عالم دین نے بھی اس جدوجہد کی حمایت کرتے ہوئے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔
علمائے کرام نے نوجوان نسل کو درپیش فکری گمراہی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پہلے انہیں گمراہ کیا جاتا ہے اور پھر توہین مذہب کی جانب دھکیلا جاتا ہے، جو باعثِ تشویش ہے۔
سیمینار کے اختتام پر ایک متفقہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ کے حالیہ فیصلے کا خیر مقدم کیا گیا اور کہا گیا کہ یہ فیصلہ گستاخانِ رسالت ﷺ کو بچانے کے لیے بنائے گئے ممکنہ چور دروازے بند کرنے کی عملی کوشش ہے، جس پر قوم کو فخر ہے۔
اعلامیہ میں درج نکات کے مطابق:
- عوام پاکستان تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے قانون کی مکمل بالا دستی اور غیر مشروط نفاذ کے حامی ہیں۔
- اس قانون کے ناجائز استعمال یا عمل درآمد میں سستی کی کوئی گنجائش نہیں۔
- عدالتوں سے اپیل کی گئی کہ ایسے مقدمات کو جلد از جلد میرٹ پر نمٹایا جائے۔
- مقامِ مصطفی ﷺ کا تحفظ اسلامی تعلیمات کی اساس ہے، اور عاشقانِ رسول ﷺ اس سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
- قادیانی لابی کی ایماء پر بنائی گئی جانبدار رپورٹس اور ان پر کمیشنز قائم کرنے کی شدید مذمت کی گئی۔
- عدالتی تاخیر کو جرم کی جڑ قرار دیتے ہوئے توہین رسالت کے مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے کا مطالبہ کیا گیا۔
- اگر کسی پر جھوٹا مقدمہ بنایا گیا ہو تو اس کی تحقیق کے لیے جے آئی ٹی قائم کی جائے، مگر اس کی آڑ میں قانون کو سست یا کمزور نہ کیا جائے۔
- ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ کے لیے ملک گیر سطح پر بیداری مہم شروع کرنے کا اعلان کیا گیا، جس میں یونٹ سطح پر سیمینارز، مشاورتی نشستیں اور تربیتی پروگرامز شامل ہوں گے۔
- بعض وکلاء اور ججز کے ممکنہ جانبدار رویے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جسٹس سردار اعجاز اسحاق کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا تاکہ حساس مقدمات صرف میرٹ پر نمٹائے جائیں۔
سیمینار کے اختتام پر شرکاء نے تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے لیے ہر قسم کی قانونی، عوامی اور علمی جدوجہد جاری رکھنے کا عہد کیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ اس مشن میں تمام دینی و ملی قوتوں کو ساتھ لے کر چلیں گے۔
آخر میں پیر طریقت، رہبر شریعت پیر محمد گلزار نقشبندی (رکن مرکزی شوریٰ جماعت اہل سنت پاکستان) نے دعا کرائی، جس میں امت مسلمہ، وطن عزیز پاکستان، اور تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے مشن کے لیے استقامت اور کامیابی کی دعا کی گئی۔


