جہلم شہر اور گردونواح کے بازاروں میں غیر معیاری تیل سے تیار کردہ پاپڑ، چپس اور دیگر نمکین اشیاء کی فروخت کھلے عام جاری ہے، جس سے شہریوں خصوصاً بچوں کی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق جہلم شہر سمیت نواحی علاقوں میں مختلف ناموں سے تیار کیے جانے والے پاپڑ اور چپس غیر معیاری اور مضر صحت تیل میں تلے جا رہے ہیں۔ یہ اشیاء زیادہ تر بغیر کسی برانڈ، رجسٹریشن نمبر یا لائسنس کے فروخت کی جا رہی ہیں، جس سے فوڈ سیفٹی کے قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہو رہی ہے۔
والدین نے شکایات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ناقص پاپڑ اور چپس بچوں کے گلے، معدے اور سانس کی نالی کے لیے نہایت نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔ کئی بچوں کو ان اشیاء کے مسلسل استعمال سے گلے کی خراش، کھانسی، الرجی اور معدے کے امراض لاحق ہو گئے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ فوڈ اتھارٹی کی جانب سے مضر صحت کھانے پینے کی اشیاء تیار کرنے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے کے باعث یہ کاروبار تیزی سے پھیل رہا ہے۔
علاقہ مکینوں اور والدین نے ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ غیر معیاری اشیاء خوردونوش فروخت کرنے والوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی کی جائے تاکہ شہریوں، خصوصاً معصوم بچوں کی صحت کو لاحق خطرات کا خاتمہ ہو سکے۔


