امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ اللہ کریم کے دئیے گئے احکامات انسانی ضرورت ہیں ان پر عمل کرنے سے جہاں ہماری ضروریات کی احسن طریقہ سے تکمیل ہوتی ہے وہاں اجرو ثواب بھی عطا ہوتا ہے۔اس کے علاوہ بند ہ مومن کو اطمینان قلب نصیب ہوتا ہے جو اسے حقیقی خوشی تک لے جاتا ہے۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے گزشتہ روز ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج وطن عزیز میں لوگ نمازیں بھی پڑھ رہے ہیں روزے بھی رکھے جاتے ہیں،حج و عمرہ بھی کرتے ہیں اور سود بھی کھا رہے ہیں۔پھر شکوہ بھی کہ زندگی میں سکون نہیں ہے۔جب آپ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺکے مقابل کھڑے ہوں گے اطمینان کیسے نصیب ہوگا؟پوری قوم انفرادی بھی اور بحیثیت مجموعی بھی ہم سود کی لعنت میں جکڑے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ معیشت کا نظام ایسا ہے کہ امیر کو امیر ترین اور غریب کو غربت کی گہرائیوں میں لے کر جا رہا ہے۔جو آج ہمارے معاشرے کا حال ہوچکا ہے اس کا سبب ہماری کمزوریاں اور بے عملی ہے۔ہم حق کو چھوڑ کر خواہشات نفسانی کی پیروی کر رہے ہیں۔
امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ صوفیاء بھی فرماتے ہیں کہ جب کوئی صوفی اللہ اللہ اور محنت و مجاہدہ کرتا ہے تو آہستہ آہستہ اس میں سے کمزوریاں اور کمیاں نکلنا شروع ہو جاتی ہیں لیکن سب سے آخر جو چیز اس میں سے نکلتی ہے وہ انا ہے کہ میں بھی کچھ ہوں۔ہمیں اپنی ترجیہات کو دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہم کیا چاہتے ہیں کیا اللہ کے حکم پر زندگی بسر کرنی ہے یا اپنی پسند پر۔
سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے کہا کہ سودی نظام کی بجائے زکوۃ کے نظام کو نافذ کیا جائے تو ہمارے بجٹ سے زیادہ زکوۃ جمع ہو سکتی ہے۔سودی نظام کی وجہ سے آج پورا ملک مقروض ہے۔جو جہاں بیٹھا ہے وہ یہ سمجھتا ہے کہ میں نے اپنی عقل اور طاقت سے اس سارے نظام کو گرفت کر رکھا ہے وہ یہ بھول جاتا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ بھی ہے وہ اللہ کا ہے۔اللہ کسی پر ظلم نہیں کرتا ہم اپنے اوپر خود ظلم کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا مزید کہا کہ قرآن کریم جو فرماتا ہے وہ حق ہے۔قرآن کریم کی تلاوت کیا کریں اور اپنے متعلقہ احکامات کو جانیں اور سیکھیں تا کہ ان پر عمل کیا جا سکے، سیکھیں گے نہیں تو عمل کیسے کریں گے؟اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔


