امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ اسلام کرہ ارض پر تلوار کے زور سے نہیں بلکہ لوگوں کے تحفظ، انصاف کی فراہمی اور ظلم کے خاتمے کے ذریعے پھیلا۔
شیخِ سلسلہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان امیر عبدالقدیر اعوان نے جمعۃ المبارک کے روز خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ایسے مظالم تھے کہ مظلوم اپنی شکایت بھی نہیں کر سکتا تھا، مگر اسلام نے انسانیت کو تحفظ اور حقوق فراہم کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ انسانیت کی حقیقی بھلائی اسی وقت ممکن ہے جب انسان خود دینِ اسلام کے اصولوں پر عمل پیرا ہو۔
انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک کے فضائل حاصل کرنے کے بعد ضروری ہے کہ انسان میدانِ عمل میں نیک اعمال پر ثابت قدم رہے اور تقویٰ اختیار کرے۔ تقویٰ کا تقاضا ہے کہ انسان ہر عمل میں اللہ کی حضوری کا احساس رکھے اور اسی کے احکامات کے مطابق زندگی گزارے۔
امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ فتح و ناکامی اللہ کی طرف سے ہے، انسان کو اسباب اختیار کرنے چاہئیں مگر بھروسہ صرف اللہ پر ہونا چاہیے۔ انہوں نے اہلِ بدر کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کامل ایمان اور اللہ پر توکل ہی کامیابی کا راستہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بخشش اللہ کی رحمت سے ہے، محض اعمال پر غرور درست نہیں۔ عبادات میں اخلاص ہونا چاہیے اور ذاتی مفادات کو شامل نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسلمان کو اپنے ایمان اور اعمال کا جائزہ لینا چاہیے کہ آیا وہ واقعی دین کے مطابق زندگی گزار رہا ہے یا نہیں۔
انہوں نے صبر کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ صبر کا مطلب ہے خود کو شریعت پر قائم رکھنا اور شیطانی راستوں سے بچنا۔ رمضان المبارک کا اصل حاصل بھی یہی ہے کہ انسان صبر اور تقویٰ کی کیفیت حاصل کرے۔
خطاب کے اختتام پر انہوں نے ملکی سلامتی، استحکام اور بقا کے لیے اجتماعی دعا بھی کروائی۔


