ضلع جہلم سمیت ملک بھر میں عید الفطر سے قبل مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوگیا جب کہ 16 اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں۔
رمضان المبارک کے آخری عشرے کے دوران ملک میں مہنگائی کی شرح میں پھر سے اضافہ ہونا شروع ہوگیاہے۔ حالیہ ہفتے ملک میں ہفتہ واربنیادوں پر مہنگائی کی شرح میں 0 اعشاریہ 96 فیصد اضافہ ہوا جب کہ سالانہ بنیادوں پربھی حالیہ ہفتے مہنگائی کی شرح کم ہوکر29 اعشاریہ 45 فیصد ہوگئی ہے۔
پچھلے ہفتے مہنگائی کی شرح میں0 اعشاریہ 09 فیصد کی کمی واقع ہوئی تھی اور اس سے پچھلے ہفتے بھی مہنگائی کی شرح میں1 اعشاریہ 13 فیصد کمی واقع ہوئی تھی۔ دو ہفتے مہنگائی میں کمی کے بعد پھر سے مہنگائی بڑھنا شروع ہوگئی ہے۔
حالیہ ہفتے کے دوران ملک میں روزمرہ استعمال کی 16 اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جب کہ 13 کی قیمتوں میں کمی اور22 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
ملک میں مہنگائی سے سب سے زیادہ 22ہزار 889روپے سے 29 ہزار 517روپے ماہانہ آمدن رکھنے والا طبقہ متاثر ہوا، جس کے لیے مہنگائی کی شرح 33 اعشاریہ 30فیصد رہی۔
پاکستان بیوروبرائے شماریات کی جانب سے قیمتوں کے حساس اشاریہ کے بارے میں جاری ہفتہ واررپورٹ (ایس پی آئی) کے مطابق حالیہ ہفتے میں چکن کی قیمت میں 2 اعشاریہ 99 فیصد،ٹماٹر کی قیمت میں11 اعشاریہ 93فیصد، پیاز کی قیمت میں 1 اعشاریہ 30 فیصد، لہسن کی قیمت میں 0 اعشاریہ 70 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
علاوہ ازیں مٹن کی قیمت میں0 اعشاریہ 41 فیصد،بیف کی قیمت میں0 اعشاریہ 75 فیصد ،روٹی کی قیمت میں 1 اعشاریہ 03فیصد،ٹاٹا چاول کی قیمت میں 0 اعشاریہ 14فیصد، پٹرول کی قیمت میں 3 اعشاریہ 45فیصد، لیڈیز سینڈل کی قیمت میں 12 اعشاریہ 52 فیصد، جینٹس سینڈلز کی قیمتوں میں8 اعشاریہ 70 فیصد اور لانگ کلاتھ کی قیمت میں2 اعشاریہ 23 فیصد اضافہ ہوا۔
اس کے برعکس آٹے کی قیمتوں میں2 اعشاریہ 68 فیصد،انڈوں کی قیمتوں میں1 اعشاریہ 89 فیصد،ایل پی جی کی قیمتوں میں1 اعشاریہ 89 فیصد،ڈیژل آئل کی قیمتوں میں1 اعشاریہ 18 فیصد،گڑ کی قیمتوں میں0 اعشاریہ 63 فیصد کمی ہوئی۔
ان کے علاوہ چینی کی قیمتوں میں0 اعشاریہ 41 فیصد،سرسوں کے تیل کی قیمتوں میں0 اعشاریہ 26 فیصد،دال مسور کی قیمتوں میں 0 اعشاریہ 25فیصد اور آلو کی قیمتوں میں0 اعشاریہ 23 فیصد کمی ہوئی ہے۔
اعدادوشمار میں مزید بتایا گیا ہے کہ حالیہ ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اعشاریہ کے لحاظ سے سالانہ بنیادوں پر 17 ہزار 732روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی کی شرح میں22 اعشاریہ 04فیصد، 17 ہزار 733روپے سے 22 ہزار 888روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی کی شرح میں26 اعشاریہ 04فیصد، 22 ہزار 889روپے سے 29 ہزار 517 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی کی شرح میں33 اعشاریہ 30فیصد، 29 ہزار 518روپے سے 44ہزار 175 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی کی شرح 30 اعشاریہ 89فیصد رہی جبکہ 44 ہزار 176روپے ماہانہ سے زائد آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی کی شرح 26 اعشاریہ 81فیصدرہی ہے۔


