جہلم: ضلع بھر میں مردار اور بیمار جانوروں کے گوشت کا مکروہ دھندہ کرنے والے قصابوں کی موجیں ،پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ذمہ داران کی کارکردگی سوالیہ نشان بن گئی۔
تفصیلات کے مطابق میڈیا کی نشاندہی پر لائیو سٹاک کے ڈاکٹر نے گزشتہ ہفتے قصاب کی دکان میں موجود مردہ جانور کا گوشت برآمد کر کے دریا برد کیا۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ شہر سمیت تحصیل بھر میں قصابوں نے جنگل کا قانون نافذ کر رکھا ہے ،صحت مند جانور سلاٹر ہاؤس میں ذبح کرنے کی بجائے قصابوں نے گنجا ن آباد علاقوں سمیت مضافاتی علاقوں میں حویلیاں کرائے پر حاصل کر رکھی ہے ،جہاں پر لاغر ،بیمار نیم مردہ مادہ جانوروں کو ذبحہ کر کے من مرضی کے نرخوں پر فروخت کیا جا رہا ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ ضلع بھر میں تین درجن سے زائد پرائس کنٹرول مجسٹرٹس لگژری گاڑیوں پر نیلی بتیاں لگا کر سڑکوں پر گھومتے دکھائی دیتے ہیں ،لیکن مضر صحت گوشت فروخت کرنے والے قصابوں کو پوچھنے والا کوئی ذمہ دار موجود نہیں۔
لائیو سٹاک کے ڈاکٹرزکا کہنا ہے کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کے افسران مضر صحت گوشت فروخت کرنے والے قصابوں کے خلاف مقدمات درج کروا سکتے ہیں،لیکن پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ذمہ داران قصابوں کے خلاف کارروائیاں کرنے کی بجائے سرٹیفکیٹ جاری کر رہے ہیں۔
شہری تنظیموں کے عمائدین نے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف ،چیف سیکرٹری پنجاب ،ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی اور سیکرٹری لائیو سٹاک سے قصابوں کے خلاف کارروائیاں کرنے اور مضر صحت مردہ جانوروں کا گوشت فروخت کرنے والے قصابوں کی دکانیں سیل کرنے اور مقدمات درج کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔


