غزہ کے رہائشیوں نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کو مسترد کردیا

غزہ کے فلسطینیوں نے عالمی عدالت کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ناکام عدالت قرار دیا۔

الجزیرہ کے مطابق غزہ میں فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ صرف امداد کافی نہیں ہے بلکہ انہیں دیرپا جنگ بندی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے) کے فیصلے سے شدید مایوسی ہوئی جس میں اسرائیل کو چار ماہ سے جاری خوفناک بمباری اور زمینی حملے بند کرنے کا حکم ہی نہ دیا گیا۔

عالمی عدالت نے فیصلے میں اسرائیل کو فلسطینیوں کی نسل کشی روکنے کا حکم دیا ہے تاہم جنگ بندی اور غزہ میں تمام فوجی سرگرمیاں بند کرنے کی کوئی بات تک نہیں کی۔

اقوام متحدہ کے مطابق، 7 اکتوبر سے غزہ میں 26 ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید اور تقریباً 19 لاکھ بے گھر ہو چکے ہیں۔

الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے غزہ میں بہت سے لوگوں نے کہا کہ وہ اس فیصلے سے مایوس ہیں لیکن حیران بالکل نہیں۔ کیونکہ انہیں نہ عالمی برادری اور نہ ہی عالمی نظام انصاف پر اعتماد ہے جو اب تک غزہ میں خونریزی کو ختم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

ان میں وسطی غزہ کے دیر البلاح میں واقع الاقصیٰ شہداء اسپتال کے باہر موجود 54 سالہ احمد النفر بھی شامل ہیں، جنہوں نے بتایا، “اگرچہ میں بین الاقوامی برادری پر بھروسہ نہیں کرتا، لیکن مجھے ایک چھوٹی سی امید تھی کہ شاید عدالت غزہ میں جنگ بندی کا فیصلہ دے گی، لیکن فیصلہ سن کر میری ساری امیدیں دم توڑ گئیں، یہ ناکام عدالت ہے۔

احمد النفر 5 بچیوں کے والد ہیں جن کا خاندان اب گھر ہو چکا ہے اور اس وقت سینکڑوں دیگر فلسطینیوں کے ساتھ اسپتال کے صحن میں پناہ لے رکھی ہے۔ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ کوئی بھی جنگ بندی نہیں کرواسکتا۔ سب لوگ سنجیدہ کوشش کیے بغیر ہماری تباہی و بربادی دیکھ رہے ہیں۔ ہمیں امداد یا خوراک نہیں جنگ کا خاتمہ اور غزہ میں اپنے گھروں کو واپسی چاہتے ہیں۔

20 نومبر کو اسرائیلی فورسز نے انہیں گھر سے گرفتار کر لیا تھا، وہ 24 گھنٹے تک اسرائیلی حراست میں رہے، جس کے بعد انہیں غزہ شہر چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ النفر نے کہا کہ وہ اپنی بیوی اور پانچ بیٹیوں کے لیے شدید پریشان ہیں جو ان خوفناک حالات میں غزہ شہر میں میرے بغیر تنہا ہیں، میری بچیاں اپنی ماں کے ساتھ اکیلی ہیں، اس طرح کے خوفناک حالات میں مجھے ان کے ساتھ ہونے کی اشد ضرورت ہے۔

النفر نے بتایا کہ اسرائیلی حراست میں ان سے پوچھ گچھ اور بدسلوکی کی گئی، بری طرح مارا پیٹا گیا، اور پھر رہا کرکے جنوب کی طرف جانے کا حکم دیا گیا۔

النفر نے بتایا کہ انہوں نے بیٹیوں کو فون پر کہا کہ عدالت کا فیصلہ “مثبت اور ہمارے حق میں” ہوگا جس میں جنگ بندی ختم کرنے کا فیصلہ آئے گا۔ لیکن میں غلط تھا، میں بہت اداس اور مایوس محسوس کر رہا ہوں. مار دو ہم سب کو، اسرائیل غزہ پر ایٹم بم گرائے اور ایک ہی بار ہمیں اس عذاب سے نجات دلائے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button