سوہاوہ: معروف روحانی بزرگ سرجلال بابا شاہ جہاں چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے سالانہ عرس و میلہ کے انعقاد سے متعلق پیدا ہونے والا تنازع خوشگوار انداز میں ختم ہو گیا۔ اختلافات کے باعث میلہ منسوخ ہونے کے قریب تھا، تاہم مقامی معززین کی بروقت مداخلت اور دانشمندانہ حکمت عملی نے صورتحال کو سنبھال لیا۔
سیاسی و سماجی شخصیت راجہ تنویر پنوار اور محمد زبیر چوہدری ایڈووکیٹ نے دیگر معززین علاقہ کے ہمراہ تمام فریقین کو ایک میز پر بٹھایا اور کئی روز کی مشاورت اور محنت کے بعد ایک متفقہ فیصلہ سامنے آیا۔ اس فیصلے کے مطابق میلہ حسبِ سابق 15، 16 اور 17 مئی کو طے شدہ شیڈول کے مطابق منعقد ہوگا اور اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی گئی۔
فریقین کی نمائندگی کو یقینی بنانے کے لیے تمام شریک افراد کے نام تشہیری مواد اور اشتہارات میں شامل کیے جائیں گے، جبکہ چوہدری نثار اور ان کے ساتھیوں کو میلہ انتظامیہ میں باقاعدہ شامل کر لیا گیا ہے تاکہ وہ انتظامی امور میں مکمل شرکت کریں۔
مزید یہ طے پایا کہ آئندہ سالوں میں میلے کے انعقاد کے لیے تمام فیصلے باہمی مشاورت سے کیے جائیں گے، اور ہر سال کی ابتدائی میٹنگ دربار سرجلال پر منعقد ہوگی تاکہ شفافیت، شراکت اور باہمی ہم آہنگی برقرار رہے۔
عرس و میلہ میں شرکت کے لیے بلال اظہر کیانی (ایم این اے و وزیر مملکت برائے ریلوے) اور راجہ اویس خالد (سابق ایم پی اے و پارلیمانی سیکرٹری) کو بطور مہمان خصوصی مدعو کیا گیا ہے۔
عوامی حلقوں نے راجہ تنویر پنوار، محمد زبیر چوہدری ایڈووکیٹ اور دیگر معززین کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی کاوشوں سے نہ صرف ایک تاریخی روایت کو بچایا گیا بلکہ اتحاد، بھائی چارے اور روحانی وابستگی کو نئی زندگی ملی ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس بار کا عرس و میلہ پہلے سے زیادہ جوش و خروش اور مثالی ہم آہنگی کے ساتھ منایا جائے گا۔


