سعودی عرب میں مقیم مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے غیر ملکیوں کی تعداد ایک حالیہ جائزے کے مطابق ایک کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے، جو کہ مملکت کی آبادی کا ایک قابل ذکر حصہ ہیں۔
مملکت میں رہائش پذیر غیر ملکی شہریوں کی تفصیلات کے مطابق، 175 سے زائد مختلف قومیتیں سعودی عرب میں آباد ہیں، ان غیر ملکیوں میں مردوں کا تناسب 76 اعشاریہ 5 فیصد جبکہ خواتین کا تناسب 23 اعشاریہ 5 فیصد ہے، جو ملک میں غیر ملکی کارکنان کی سماجی ترکیب کو ظاہر کرتا ہے۔
سعودی عرب میں مقیم غیر ملکی 40 لاکھ سے زائد خاندانوں پر مشتمل ہیں، اور ہر خاندان میں اوسطاً 2 اعشاریہ 7 افراد شامل ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق، سعودی عرب میں سب سے زیادہ تعداد میں بنگلہ دیشی باشندے موجود ہیں، جن کی تعداد 21 لاکھ ہے، جو مملکت میں مجموعی طور پر مقیم تمام غیر ملکیوں کا 15 اعشاریہ 8 فیصد بنتا ہے، اس کے بعد دوسرے نمبر پر ہندوستانی کمیونٹی 18 لاکھ 88 ہزار سے زائد یعنی 14 اعشاریہ 1 فیصد جبکہ پاکستانی کمیونٹی 18 لاکھ سے کچھ زائد یعنی 13 اعشاریہ 6 فیصد کے ساتھ نمایاں ہیں۔
دیگر اہم قومیتوں میں یمنی باشندے ایک لاکھ 80 ہزار یعنی 13 اعشاریہ 5 فیصد اور مصری باشندے 14 لاکھ یعنی 11 فیصد شامل ہیں، ان کے علاوہ، سوڈانی باشندوں کی تعداد 8 لاکھ 19 ہزار یعنی 6 اعشاریہ 1 فیصد، فلپائنی باشندوں کی تعداد 7 لاکھ 25 ہزار یعنی 5 اعشاریہ 4 فیصد اور شامی باشندوں کی تعداد 4 لاکھ 99 ہزار یعنی 3 اعشاریہ 4 فیصد بنتی ہے۔
دیگر قومیتوں کی فہرست میں لبنانی، نیپالی اور اردنی بھی شامل ہیں، جن کی تعداد بالترتیب 2 لاکھ 97 ہزار یعنی 2 اعشاریہ 2 فیصد، 2 لاکھ سے زائد یعنی 1 اعشاریہ 5 فیصد اور 18 لاکھ یعنی 13 اعشاریہ 4 فیصد بنتی ہے۔
یہ اعداد وشمار سعودی عرب میں موجود غیر ملکی باشندوں کی متنوع قومیتوں اور ان کی تعداد کا واضح انداز پیش کرتے ہیں، جو مملکت کے معاشرتی اور ثقافتی تنوع کا ایک اہم حصہ ہیں۔


