Jhelum UpdatesJhelum Updates
  • صفحۂ اول
  • جہلم
  • دینہ
    • منگلا
  • سوہاوہ
    • ڈومیلی
    • پڑی درویزہ
  • پنڈدادنخان
    • کھیوڑہ
    • جلالپور شریف
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • مزید
    • امیگریشن اور سفر
    • لائف اسٹائل
      • دلچسپ و عجیب
      • صحت
    • پاکستان
    • دنیا
    • ٹیکنالوجی
    • کاروبار
    • کھیل
    • تعلیم
    • سیاست
پڑھنا: سوشل میڈیا بندش سے لاکھوں پاکستانیوں کا روزگار خطرے میں
شیئر کریں
فونٹ سائز تبدیل کریںAa
فونٹ سائز تبدیل کریںAa
Jhelum UpdatesJhelum Updates
  • جہلم
  • دینہ
  • سوہاوہ
  • پنڈدادنخان
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • امیگریشن اور سفر
سرچ
  • صفحۂ اول
  • ضلع جہلمضلع جہلم
    • جہلم
    • دینہ
    • سوہاوہ
    • پنڈدادنخان
    • منگلا
    • ڈومیلی
    • کھیوڑہ
    • جلالپور شریف
    • پڑی درویزہ
  • بک مارکس
    • My Bookmarks
    • Customize Interests
  •  
    • پاکستان
    • اوورسیز پاکستانی
    • امیگریشن اور سفر
    • سیاست
    • کاروبار
    • کھیل
    • دنیا
    • صحت
    • تعلیم
  • کالم و مضامین
  • ٹیکنالوجی
    • موبائل فون
ہمیں فالو کریں
جہلم اپڈیٹس © 2023, تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں

سوشل میڈیا بندش سے لاکھوں پاکستانیوں کا روزگار خطرے میں

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
24 جولائی, 2024
شیئر کریں
شیئر کریں

ملک بھر میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے بعد گزشتہ چند روز سے فیس بک اور انسٹاگرام بھی جزوی طور پر بند ہیں۔

حکومت کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ 6 سے 11 محرم الحرام تک سوشل میڈیا پلیٹ فارم جزوی طور پر بند رہیں گے تاہم ملک میں اب تک فیس بک، انسٹاگرام اور یہاں تک کہ واٹس ایپ کی سروسز بھی مکمل طور پر بحال نہیں ہو پائیں۔

واضح رہے کہ ملک میں انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے والے سب سے بڑے پرائیوٹ ادارے ’نیا ٹل‘ کی جانب سے ایک پیغام شیئر کیا گیا جس میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی ( پی ٹی اے) سے سروسز میں رخنے کی وجہ پوچھی گئی اور ساتھ میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ یہ پابندی کب تک ختم ہو گی۔

آج کے اس ڈیجیٹل دور میں تمام چھوٹے بڑے کاروبار براہ راست سوشل میڈیا سے منسلک ہیں۔ خاص طور پر چھوٹے برانڈز جن کا وجود صرف سوشل میڈیا تک محدود ہے اور وہ فری لانسرز جو بیرونی ممالک کے لیے اپنی سروسز مہیا کرتے ہیں سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

کراچی انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی آے) کے اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کے چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر محمد ناصر نے بتایا کہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ بندش کے ہماری معیشت پر بہت برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر محمد ناصر نے کہا کہ جب پاکستان میں آئے روز انٹرنیٹ کے مسائل ہوتے ہیں تو بیرونی ممالک کے لیے کام کرنے والے اور ہماری معیشت میں سب سے زیادہ حصہ ڈالنے والے فری لانسرز کے لیے سب سے زیادہ مسائل کھڑے ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب وہ فری لانسرز ہر چند ہفتوں کے بعد یہ بتائیں گے کہ آج ہمارا انٹرنیٹ ڈاؤن ہے یا ہمارے ملک میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پابندی عائد ہے تو اس سے پاکستان کا دوسرے ممالک پر بہت برا تاثر پڑے گا اور اس کے علاوہ آزادی اظہار رائے پر بھی انگلیاں اٹھیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ دیگر ممالک پاکستانیوں کو سنجیدگی سے لینا چھوڑ دیں گے اور ہمارے مقابلے میں بھارت کو زیادہ ترجیح دیں گے۔

پروفیسر ڈاکٹر محمد ناصر نے کہا کہ شاید حکومت کو ابھی اس کے اثرات محسوس نہیں ہو رہے کیونکہ ابھی لوگ اپنی ذات تک مسائل برداشت کر رہے ہیں لیکن اگر آئی ٹی سے منسلک افراد سے پوچھا جائے تو ان کے لیے پہلے کی نسبت پروجیکٹ حاصل کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ ابھی یہ انفرادی پیمانے پر ہے تو کوئی اس کے بارے میں نہیں سوچ رہا لیکن کچھ عرصے میں اس کے بڑے پیمانے پر اثرات آنا شروع ہو جائیں گے اور وہ تباہ کن ہونگے لیکن اس وقت تک پانی سر سے گزر چکا ہوگا۔

چیئرمین اکنامکس ڈیپارٹمنٹ آئی بی اے نے کہا کہ صرف یہی نہیں بلکہ اس بندش سے پاکستان کے لوکل کاروبار بھی بیحد متاثر ہورہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے اقدامات سے کسی بھی ملک کے معاشی حالات نہیں بدل سکتے۔

پاکستان ڈیجیٹیل رائٹس فاؤنڈیشن کی چیف ایگزیکٹیو آفیسر نگہت داد نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا کی بندش کا اثر بہت سے شعبوں کو متاثر کرتا ہے اور اس سے سوشل میڈیا پر انحصار کرنے والے کاروباری افراد و کمپنیاں اور مارکیٹینگ سے منسلک افراد زیادہ نقصان اٹھاتے ہیں۔

نگہت داد نے کہا کہ سوشل میڈیا کی اس بندش کے باعث سنہ 2023 میں تقریبا 125 ملین شہری متاثر ہوئے تھے۔

ایک ریسرچ کے مطابق پاکستان میں سنہ 2023 میں ای کامرس کی آمدنی 4 ہزار 684 ملین امریکی ڈالر رہی جس کے سال 2024 میں 4 ہزار 892 ملین امریکی ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔ اس کی متوقع سالانہ شرح نمو 5.85 فیصد ہے۔ اس کے علاوہ سنہ 2023 میں سوشل میڈیا چینلز کے ذریعے پیدا ہونے والی آمدنی 11.32 ملین امریکی ڈالر رہی ہے اور توقع ہے کہ یہ سال 2024 میں بڑھکر 14.74 ملین امریکی ڈالر تک ہوجائے گی۔

صائمہ رضوان کا تعلق اسلام آباد سے ہے اور وہ ایک ہوم شیف ہیں اور انہیں یہ کاروبار کرتے ہوئے تقریباً 5 برس ہوچکے ہیں۔

انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے کاروبار کو مزید بڑھنے میں انسٹاگرام نے سب سے زیادہ مدد کی ہے اور وہ روز کا مینیو انسٹاگرام اسٹوری پر لگاتی ہیں جہاں کسٹمرز کی بڑی تعداد موجود ہوتی ہے اور وہیں سے سب سے زیادہ آرڈرز موصول ہوتے ہیں لیکن جب سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بندش ہوگی تو کون کاروبار کر سکے گا۔

صائمہ رضوان نے کہا کہ مجھے روزانہ تقریباً 30 آرڈرز ملتے تھے لیکن گزشتہ چند دنوں سے یہ کم ہوکر 8 سے 10 تک رہ گئے ہیں اور یہ وہ ہیں جو میرے واٹس ایپ پر ایڈ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب وہ یہ سوچ رہی ہیں واٹس ایپ کا بزنس اکاؤنٹ بنا کر تمام لوگوں کو وہاں ایڈ کر لیں ورنہ نقصان کے علاوہ کچھ نہیں ہوگا۔

محمد طلحہ یوسف سوشل میڈیا مینیجر ہیں۔ انہوں نے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ جرمنی کی ایک کمپنی کے سوشل میڈیا پیجز کو مینیج کرتے ہیں مگر پاکستان میں آئے روز کبھی انٹرنیٹ اور کبھی سوشل میڈیا کی بندش کے باعث کام کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بیرونی ممالک کے لوگ پروفیشنلی بہت زیادہ سخت ہوتے ہیں اور اگر پاکستان میں اس طرح کے مسائل چلتے رہے تو پاکستانیوں کو پروجیکٹس ملنے بند ہوجائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان آئی ٹی سروسز فراہم کرنے والا سب سے سستا ملک ہے اور پاکستانیوں کو بہت زیادہ سراہا بھی جاتا ہے لیکن لگتا ہے کہ کچھ عرصے بعد پاکستانی اس موقعے سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔

محمد طلحہ نے کہا کہ میں اس کمپنی کی سوشل میڈیا مارکیٹینگ اور ٹارگٹ آڈیئنس کے مطابق کانٹینٹ بناتا ہوں اور اب مجھے کمپنی کے سوشل میڈیا پر کچھ پروڈکٹس کی مارکیٹنگ کرنی ہے لیکن پاکستان میں ایکس کے بعد اب انسٹاگرام اور فیس بک بندش کی وجہ سے میں یہ نہیں کر سکتا۔

انہوں نے کہا کہ سال کے 10 مہینے پاکستان میں انٹرنیٹ اور کبھی سوشل میڈیا پر بندش لگی رہتی ہے اور اب سمجھ نہیں آتا کہ ہم ان کو کیا جواب دیں کیونکہ روز ایک جیسا جواب دینا شرمندگی کا باعث ہے۔

محمد طلحہ نے کہا کہ یہ صورتحال اگر جاری رہی تو پھر انہیں کام ملنا بند ہوجائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے حکومت کو تو کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن ان کے لیے پاکستان میں جینا مشکل ہو جائے گا۔

یہ مضمون شیئر کریں
Facebook Flipboard Pinterest Whatsapp Whatsapp Reddit Telegram لنک کاپی کریں
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ہمیں فالو کریں

FacebookLike
XFollow
PinterestPin
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
TiktokFollow
WhatsAppFollow
LinkedInFollow
SnapchatSubscribe
ThreadsFollow
BlueskyFollow
Weather
28°C
Jhelum
clear sky
28° _ 28°
54%
1 km/h
جمعہ
28 °C
ہفتہ
35 °C
اتوار
35 °C
پیر
37 °C
منگل
37 °C

تازہ ترین

جہلم: محکمہ ریونیو میں زیر التوا امور تیزی سے نمٹائے جانے لگے
18 ستمبر, 2026
جہلم میں تجاوزات کا پھیلاؤ برقرار، پیرا فورس کی کارکردگی پر شہریوں کے سوالات
18 ستمبر, 2026
27 ستمبر کے احتجاج کے تناظر میں جہلم میں پی ٹی آئی کارکنوں کے خلاف کارروائیاں تیز، 48 افراد گرفتار
18 ستمبر, 2026
جہلم: جی ٹی روڈ پر حادثات کی روک تھام کیلئے اہم اقدام، یوٹرنز کے قریب محفوظ سپیڈ بریکرز کی تنصیب جاری
18 ستمبر, 2026
جہلم ریلوے اسٹیشن پر افسوسناک حادثہ، 41 سالہ مسافر چلتی ٹرین سے گر کر جاں بحق
18 ستمبر, 2026

شاید آپ یہ بھی پڑھنا پسند کریں

جہلم میں منشیات فروش مجرم کو 6 سال قید اور بھاری جرمانے کی سزا

4 ستمبر, 2025

ضلع جہلم میں سردی نے دستک دیدی، بارش برسنے سے موسم خوشگوار

27 ستمبر, 2024

جہلم: جی ٹی روڈ جادہ کے مقام پر چار گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں

20 فروری, 2026

روزہ دار سحری اور افطاری میں تلی ہوئی اشیاء کے استعمال سے پر ہیز کریں، ڈاکٹر فواد مجید چوہدری

18 مارچ, 2024

اشتہارات اور خبروں کیلئے جہلم اپڈیٹس سے رابطہ کریں۔

  • [email protected]
  • [email protected]
تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں Follow us on Google News
  • Contact Us
  • Privacy Policy
  • Terms & Condition
  • About Us
  • Home

About US

The Largest News Network of Jhelum, Pakistan.
Quick Link
  • جہلم
  • دینہ
  • سوہاوہ
  • پنڈدادنخان
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • امیگریشن اور سفر

Subscribe US

Subscribe to our newsletter to get our newest articles instantly!

[mc4wp_form]
Jhelum UpdatesJhelum Updates
ہمیں فالو کریں
جہلم اپڈیٹس © 2023, تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں