لندن: لارڈ قربان حسین نے زور دیا ہے کہ برطانیہ بھارت کی جانب سے کشمیر میں جاری نسل کشی کو رکوانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
ہاؤس آف لارڈز میں نسل کشی بل پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نے لارڈز کی توجہ بھارت میں جاری نسل کشی کے واقعات کی طرف مبذول کراتے ہوئے کہا کہ جینوسائیڈ واچ کے چیئرمین گریگوری سٹینٹن، جنہوں نے روانڈا میں نسل کشی کے ہونے سے پانچ سال پہلے پیش گوئی کی تھی وہ اب دنیا سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ بھارت میں نسل کشی کا نوٹس لےاور انہوں نے خاص طور پر کشمیر کا ذکر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نسل کشی راتوں رات نہیں ہوتی۔ یہ ایک طویل عمل ہے اور جب نسل کشی ہوتی ہے تو اقدامات کیے جاتے ہیں۔ پچھلی دو دہائیوں کے دوران، کشمیر سب سے بڑا فوجی کیمپ رہا ہے، جہاں 1990 سے تقریباً 10 لاکھ بھارتی فوجی موجود ہیں۔ انسانی حقوق کے ممتاز بین الاقوامی ادارے جیسے کہ اقوام متحدہ کا کمیشن برائے انسانی حقوق اور ایمنسٹی انٹرنیشنل ہیں کی جانب سے وسیع پیمانے پر رپورٹیں موصول ہوئی ہیں کہ بھارتی افواج قتل، عصمت دری، تشدد، لاپتہ افراد وغیرہ میں ملوث ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2019 میں، بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو واپس لے لیا جو بھارتی آئین میں تھی جس نے مقامی لوگوں سے بہت سے حقوق چھین لیے ہیں۔ 1990 کے بعد سے اب تک ایک لاکھ سے زائد افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں اور ہزاروں لوگ اب بھی جیلوں میں بند ہیں۔
انہوں نے ممتاز کشمیری لیڈر سید شبیر احمد شاہ کی مثال دی جو کشمیر میں 30 سال سے زیادہ عرصے سے جیل میں ہیں۔ یہ واقعات ثابت کرتے ہیں یں کہ گریگوری اسٹینٹن جو کچھ کہہ رہے ہیں اس میں سچائی ہے اور ہمیں اسے سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ کے بھارت کے ساتھ مضبوط روابط ہیں انہیں چاہیے کہ وہ کشمیر میں نسل کشی کو روکنے کے لیے اپنے ان روابط کو استعمال کرے۔


