جہلم: ملاوٹ مافیا کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر جہلم میر رضا اوزگن کی خصوصی ہدایت پر پنجاب فوڈ اتھارٹی جہلم نے جی ٹی روڈ پر رات گئے ناکہ بندی کر کے دودھ کی ترسیل کرنے والی گاڑیوں کی کڑی نگرانی کی۔ کارروائی کے دوران دودھ کے چار ٹینکرز اور گاڑیوں کا تفصیلی معائنہ کیا گیا۔
فوڈ اتھارٹی حکام کے مطابق جدید لیبارٹری ٹیسٹ کے بعد صرف ایک گاڑی کا دودھ معیار پر پورا اترا جبکہ تین گاڑیوں میں موجود دودھ انسانی صحت کے لیے مضرِ صحت ثابت ہوا۔ نمونے فیل ہونے پر پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ٹیم نے فوری اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لاتے ہوئے مجموعی طور پر 1 لاکھ 15 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا، جبکہ 2100 لیٹر ملاوٹ شدہ دودھ موقع پر ہی تلف کر دیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر جہلم میر رضا اوزگن نے اس موقع پر واضح کیا کہ انسانی زندگیوں سے کھیلنے والے عناصر کے خلاف کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو خالص اور معیاری اشیائے خورونوش کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے، اور اس مقصد کے لیے ملاوٹ مافیا کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ڈپٹی کمشنر نے پنجاب فوڈ اتھارٹی کو ہدایت کی کہ دودھ کی فراہمی کے تمام داخلی و خارجی راستوں کی روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ یقینی بنائی جائے، تاکہ ملاوٹ شدہ دودھ کی ضلع میں آمد کو مکمل طور پر روکا جا سکے۔
ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ عوامی صحت پر سمجھوتہ کرنے والے مراکز اور سپلائرز کے خلاف سخت قانونی کارروائی، بھاری جرمانے اور مقدمات درج کیے جائیں گے، تاکہ ضلع جہلم میں معیاری اور محفوظ خوراک کی دستیابی ہر صورت یقینی بنائی جا سکے۔


