جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں دودھ کی مانگ میں اضافے نے منافع خور عناصر کو متحرک کر دیا ہے، جو دودھ کو گاڑھا اور غذائیت سے بھرپور دکھانے کے لیے اس میں خطرناک کیمیکل شامل کر رہے ہیں۔ یہ عمل نہ صرف انسانی صحت کے لیے مہلک ہے بلکہ پنجاب پیور فوڈ ریگولیشنز کی کھلی خلاف ورزی بھی ہے۔
ذرائع کے مطابق جعلی دودھ تیار کرنے والے عناصر پیرافن آئل، یوریا، صابن، مالا مین، سبزیوں کا تیل اور دیگر مضر صحت اشیاء کا استعمال کر رہے ہیں تاکہ دودھ بظاہر گاڑھا اور خالص نظر آئے۔ ماہرین صحت کے مطابق ان اجزاء کے مسلسل استعمال سے جگر، گردے، معدہ، دل کی بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں جبکہ بچوں کی جسمانی و ذہنی نشوونما بھی شدید متاثر ہوتی ہے۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان فوڈ اتھارٹی اکثر دودھ کی گاڑیوں کی جانچ کے دوران صرف "فیٹ ناٹ سالڈز (FNF)” کی سطح چیک کرتی ہے اور گاڑیوں کو کلیئر کر دیتی ہے، جبکہ دودھ میں ملاوٹ کی مکمل سائنسی تشخیص کے لیے مخصوص کیمیائی ٹیسٹ ناگزیر ہیں۔ ان میں میتھیلین بلیو ٹیسٹ، ڈی ایم اے بی فیسلر، آیوڈین ٹیسٹ، بارفوڈ ٹیسٹ، پینز ٹیسٹ، اور سلور نائٹریٹ ٹیسٹ شامل ہیں۔
اس حوالے سے لاہور ہائی کورٹ کے معروف قانون دان کرنل (ر) انور خان آفریدی ایڈووکیٹ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی ایکٹ کے تحت ملاوٹی دودھ کی فروخت ایک قابلِ سزا جرم ہے، جس کے تحت دفعہ 23 کے تحت قید و جرمانہ دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ متعلقہ اداروں کو قانون کی سختی سے عملداری کرنی چاہیے تاکہ عوام کی صحت کو لاحق خطرات کا سدباب ہو سکے۔
عوامی حلقوں نے پنجاب فوڈ اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ دودھ فروشوں کی گاڑیوں کی مکمل سائنسی جانچ کی جائے اور ملاوٹی دودھ فراہم کرنے والے عناصر کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ شہریوں کو خالص دودھ کی فراہمی ممکن ہو سکے۔


