دینہ اور گردونواح میں روز بروز بڑھتی ہوئی مہنگائی نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔
آٹا، گھی، دالیں، پھل، روٹی، گیس سلنڈر اور بجلی کے بلوں میں مسلسل اضافے کے باعث متوسط اور غریب طبقہ شدید معاشی دباؤ کا شکار ہو گیا ہے جبکہ گھریلو اخراجات پورے کرنا شہریوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
روزمرہ استعمال کی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ دوسری جانب آمدن میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا، جس کے باعث گھریلو بجٹ بری طرح متاثر ہو چکا ہے۔
شہریوں کے مطابق آٹا، گھی، دالوں، سبزیوں، پھلوں اور دیگر اشیائے خورونوش کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں، جبکہ گیس سلنڈرز اور بجلی کے بھاری بلوں نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث سفید پوش اور متوسط طبقہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہے جبکہ کم آمدن والے افراد کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنا بھی دشوار ہوتا جا رہا ہے۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں کمی لائی جائے اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔
مقامی سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر مہنگائی میں اضافے کا موجودہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو عام آدمی کے لیے بنیادی ضروریاتِ زندگی پوری کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے فیصلے کیے جائیں جو غریب اور متوسط طبقے کو حقیقی ریلیف فراہم کر سکیں۔


