بین الاقوامی برادری عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر اسرائیل کو جوابدہ ٹھہرائے، سعودی عرب

سعودی عرب نے فلسطینیوں کے خلاف جاری اسرائیلی نسل کشی کو روکنے سے متعلق عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر جوابدہ ٹھہرائے۔

’عرب نیوز‘ کی رپورٹ کے مطابق کے سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں انہوں نے اسرائیل کے غزہ پر قبضے اور نسل کشی سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن کی خلاف ورزیوں کو سعودی مملکت کی طرف سے واضح طور پر مسترد کردیا ہے۔

سعودی وزارت خارجہ نے اس معاملے میں جنوبی افریقہ کی کوششوں کو بھی سراہا اور بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے مزید اقدامات کرے، فلسطینی عوام کو تحفظ فراہم کرے اور بین الاقوامی قوانین کی کسی بھی خلاف ورزی کے لیے اسرائیلی قابض افواج کو جوابدہ ٹھہرائے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز عالمی عدالت انصاف نے اسرائیل کی غزہ میں نسل کشی کا کیس نہ سننے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اس کے خلاف نسل کشی کا مقدمہ چلانے کا اعلان کردیا تاہم جنگ بندی کا حکم دینے میں ناکام رہی تھی۔

عالمی عدالت انصاف میں جنوبی افریقہ نے غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کا الزام اسرائیل پر عائد کرتے ہوئے مقدمہ دائر کیا تھا جس کے بعد عالمی عدالت میں کارروائی جاری تھی، 11 اور 12 جنوری کو ہونے والی سماعت میں جنوبی افریقہ اور اسرائیل نے دلائل پیش کیے تھے۔

جنوبی افریقہ نے سماعت کے دوران اسرائیل کے خلاف عارضی اقدامات کی استدعا کی تھی۔

اس دوران اسرائیل نے عالمی عدالت انصاف میں غزہ میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں کا ذمہ دار فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس کو قرار دیا تھا۔

اسرائیل نے غزہ میں 26 ہزار سے زائد فلسطینیوں کی اموات کے باوجود عالمی عدالت انصاف میں سماعت کے موقع پر اپنی کارروائیوں کو فلسطینیوں کی نسل کشی کی مہم ماننے سے انکار کرتے ہوئے الزامات کو جھوٹا اور مسخ شدہ قرار دے دیا تھا۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے عالمی عدالت میں مؤقف اپنایا کہ وہ اپنے دفاع کا حق استعمال کر رہا ہے اور ان کی لڑائی فلسطینیوں سے نہیں بلکہ حماس سے ہے۔

انہوں نے عالمی عدالت انصاف سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مقدمے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے جارحیت کو روکنے کی جنوبی افریقہ کی درخواست کو مسترد کرے۔

عدالت میں اسرائیل کے وکیل میلکم شا نے دلیل دی کہ یہ کوئی نسل کشی نہیں ہے۔

واضح رہے کہ 7 اکتوبر کو حماس کی جانب سے کیے گئے حملوں کے بعد اسرائیل نے غزہ میں وحشیانہ کارروائیوں کا آغاز کیا تھا، اسرائیلی حکام کے مطابق حماس کے حملے میں عام شہریوں سمیت 1200 افراد مارے گئے، اس کے علاوہ 240 افراد کو یرغمال بھی بنایا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button