ایک ماہ قبل نظم ’اگر میں مارا گیا‘ لکھنے والے نامور فلسطینی شاعر اسرائیلی بمباری میں جاں بحق

انگریزی زبان میں اپنی کہانی بڑے پیمانے پر لوگوں کو سنانے کے لیے فلسطینی شاعر رفعت الایریر اسرائیلی بمباری میں جاں بحق ہوگئے، انہوں نے ایک ماہ قبل نظم ’اگر میں مارا گیا‘ لکھی تھی۔

عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق 7 اور 8 دسمبر کی درمیانی شب اسرائیلی فضائی حملے میں فلسطینی شاعر رفعت الایریر اور ان کا پورا خاندان جاں بحق ہوا تھا۔

ان کے دوست، غزہ کے شاعر مصعب ابو توحہ نے فیس بک پر لکھا کہ ’میرا دل ٹوٹ گیا ہے، میرے دوست اور ساتھی رفعت الیریر کو چند منٹ قبل اس کے اہل خانہ کے ساتھ قتل کر دیا گیا۔‘

جاں بحق ہونے والے فلسطینی شاعر کے دوست نے لکھا کہ ’میرا دل ٹوٹ گیا ہے، میں یقین نہیں کرسکتا کہ میرے دوست کو قتل کردیا گیا ہے۔‘

حماس کے حکام کے مطابق اسرائیل نے جمعرات کی شام غزہ کی پٹی کے شمال میں مزید حملے کیے تھے۔

سوشل میڈیا پر جاں بحق ہونے والے فلسطینی شاعر کی ایک نظم بھی وائرل ہورہی ہے جو انہوں نے ایک ماہ قبل لکھی تھی، اس نظم کو ہزاروں لوگوں نے سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔

انہوں نے اپنی نظم میں لکھا تھا کہ ’اگر مجھے مرنا ہے تو کہانی سنانے کے لیے آپ کو زندہ رہنا ہوگا۔‘

نظم کے ایک حصے میں لکھا تھا کہ ’اگر مجھے مرنا ہے، تو امید زندہ رہنے دو، اسے ایک کہانی بننے دو۔‘

اکتوبر میں اسرائیل کی جانب سے زمینی کارروائی شروع کرنے کے چند بعد فلسطینی شاعر رفعت الایریر نے انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ غزہ چھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گے۔

فلسطینی شاعر نےکہا تھا کہ ’غزہ سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے، ہم کیا کریں، ڈوب جائیں؟ اجتماعی خودکشی کرلیں؟ کیا اسرائیل یہی چاہتا ہے؟ اور ہم ایسا نہیں کریں گے۔‘

انہوں نے کہا تھا کہ اگر اسرائیلی افواج حملہ کرتی ہیں اور ہمیں نقصان پہنچانے کی کوشش کرتی ہے تو ہمیں مزاحمت کرنے کے لیے کچھ بھی کرنا پڑا ہم کریں گے۔

جاں بحق ہونے والے فلسطینی شاعر نے کہا تھا کہ یہ جذبہ کئی فلسطینیوں کے اندر پایا جاتا ہے، ہم خود کو بے بس محسوس کرتے ہیں، ہمارے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں ہے۔

رفعت الایریر کے دوست احمد النوق نے ’ایکس‘ پر ٹوئٹ کرتےہوئے لکھا کہ ’رفعت کا قتل المناک، دردناک اور اشتعال انگیز ہے، یہ ایک بہت بڑا نقصان ہے‘۔

فلسطینی شاعر کے جاں بحق ہونے پر ادبی مرکز کی ویب سائٹ نے بھی انہیں خراج تحسین پیش کیا۔

رفعت الیریر غزہ کی اسلامی یونیورسٹی میں انگریزی ادب کے پروفیسر بھی تھے، جہاں وہ شیکس پیئر کے علاوہ دیگر مضامین بھی پڑھاتے تھے۔

وہ ’ہم نمبرز نہیں ہیں‘ (”We are not numbers“) نامی پروجیکٹ کے شریک بانیوں میں سے ایک تھے، جو انگریزی زبان میں نظمیں لکھ کر اپنی کہانیاں بڑے پیمانے پر لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔

یاد رہے کہ 7 اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ میں فوجی آپریشن شروع کیا، اسرائیل کی جانب سے مسلسل بمباری کی وجہ سے 17 ہزار سے زائد فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button