جہلم: ضلع جہلم ماحولیاتی آلودگی کے دہانے پر کھڑا ہے روزانہ کئی ٹن کوڑا اکٹھا ہوتا ہے جس کا صرف 50 فیصد میونسپل کمیٹی کا عملہ اٹھا پاتا ہے، انسانی حیات کے لئے سب سے خطرناک پلاسٹک بیگ ہیں۔
ان خیالات کا اظہار جہلم شہر کی سماجی، رفاعی، فلاحی اور مذہبی تنظیموں کے عمائدین نے اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اندرون شہر میں روزانہ کئی ٹن کوڑا اکٹھا ہوتا ہے، جس میں سے میونسپل کمیٹی کا عملہ اپنے محدود وسائل کو استعمال کرتے ہوئے محض 50 فیصد کوڑا اٹھا پاتا ہے جبکہ باقی ماندہ کوڑا ہوا کے ذریعے گلی محلوں میں پھیل جاتا ہے اور انسانی صحت کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
شہریوں نے بتایا کہ پلاسٹک بیگز کی عمر 500 سال سے بھی زیادہ ہوتی ہے،پلاسٹک بیگز میں اشیائے خوردونوش کی فراہمی کینسر جیسے موذی امراض کا باعث بنتی ہے، ہمیں چاہیے کہ ضلع بھر میں شاپر بیگز کی فروخت اور استعمال پر پابندی عائد کروائی جائے تاکہ ماحولیاتی آلودگی پر قابو پایا جا سکے۔


