عام انتخابات: ضلع جہلم میں انتخابی گہما گہمی شروع، ووٹر تاحال انتخابات سے لاتعلق

جہلم: 8 فروری کو ہونے والے انتخابات کیلئے سیاست دانوں کی جانب سے ضلع بھر میں انتخابی گہما گہمی شروع ہو گئی ہے مگر ووٹرز ابھی تک ان انتخابات سے لا تعلق دکھائی دیتے ہیں۔

مسلم لیگ ن کے امیدواروں کو اپنے مخالفین پر نفسیاتی برتری ضرور حاصل ہے مگر دوسری طرف دو قومی اور تین صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر لاکھوں نوجوان ووٹرزجو اپنا حق رائے دیہی پہلی دفعہ استعمال کرنے جا رہے ہیں جن کی ہمدردیاں پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں اسی وجہ سے مسلم لیگ ن کے حلقے خوف زدہ ہیں۔

بہر حال آنے والے دنوں میں انتخابی مہم میں تیزی آئے گی۔ پیپلز پارٹی نے بھی اپنے اپنے پینل میدان میں اتارے ہیں جبکہ دیگر جماعتوں کے امیدوار بھی میدان میں موجود ہیں جس کی وجہ سے بیلٹ پیپر خاصا لمبا اور بھر پور ہوگا۔

شہریوں کا اس حوالے سے کہنا ہے الیکشن کمیشن کی طرف سے کیے جانے والے سنجیدہ اقدامات کی روشنی میں بہر حال یہ بات بڑے وثوق سے کی جا سکتی ہے کہ آٹھ فروری کے انتخابات کے ملتوی ہونے کااب کوئی امکان نہیں۔

چند شہریوں نے کہا کہ بہر حال انتخابی مہم درمیانے انداز میں چل رہی ہے، مقامی اخبارات میں انتخابی مہم کے اشتہارات کے حوالے سے کام مکمل طور پر کھٹائی کی نظر ہے جس سے بخوبی اندازہ ہ لگایا جاسکتا ہے کہ امید زیادہ تر سوشل میڈیا پر انحصار کر رہے ہیں حالانکہ الیکشن 8 فروری کو سوشل میڈیا پر نہیں پولنگ اسٹیشنوں پر لڑا جائے گا۔

بزرگ شہریوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے امید اوروں کو کافی سہولتیں حاصل ہیں اور یہ وہ سہولتیں ہیں جو 2018 کے الیکشن میں پی ٹی آئی کے امیداوروں کیلئے تھیں اور راتوں رات مسلم لیگ ن کے امیدوار پی ٹی آئی میں شامل کروا لئے گئے تھے، تاریخ اپنے آپ کو دوہرا رہی ہے مسلم لیگ ن اس وقت نادیدہ قوتوں کی فیورٹ جماعت ہے۔

نوجوانوں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کا ووٹ پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدواروں کو ہی پڑے گا اور اب دیکھنا یہ ہے کہ نوجوان ووٹرز کو پولنگ اسٹیشنوں تک رسائی حاصل ہو سکے ہوگی؟ ۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button