جہلم: رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی منافع خوروں نے تجوریاں بھرنے کی تیاری شروع کر دی۔
اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں خودساختہ اضافے کے لیے ذخیرہ اندوزی تیزی سے جاری ہے۔ جیسے ہی ماہِ صیام کا آغاز ہوتا ہے، گراں فروش اشیائے ضروریہ کے نرخوں میں بے جا اضافہ کر کے لوٹ مار کا بازار گرم کر لیتے ہیں، جس کے باعث مہنگائی کا طوفان برپا ہو جاتا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت پنجاب اور ضلعی انتظامیہ کو ذخیرہ اندوزوں کے خلاف فوری اور سخت اقدامات کرنے چاہئیں۔ خفیہ اداروں کی مدد سے گراں فروشوں کے گوداموں پر چھاپے مار کر ذخیرہ کی گئی اشیائے ضروریہ، جیسے کہ دالیں، چاول، گھی اور دیگر خوراکی اجناس کو برآمد کر کے مقررہ نرخوں پر فروخت کو یقینی بنایا جائے۔
عوامی و سماجی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ رمضان المبارک کے دوران مصنوعی مہنگائی کے خاتمے کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنائی جائے، تاکہ غریب اور سفید پوش طبقہ روزے رکھ سکے اور عبادات میں مصروف ہو سکے۔
شہریوں نے متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ منافع خوروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔


