گزشتہ دنوں مورخہ 17، 18 جولائی 2026ء بروز جمعہ اور ہفتہ شام سات سے رات دس بجے تک جہلم شہر کی تاریخی "لالہ لاجپت رائے لائبریری” میں ضلعی انتظامیہ اور جذبہ نیوز جہلم کے باہمی اشتراک سے دو روزہ "جہلم لٹریری فیسٹیول” کا انعقاد کیا گیا، جس میں انتظامیہ کی طرف سے دعوت پر دونوں دن میری حاضری ہوئی اور دوسرے روز کے آخری سیشن میں مجھے چند منٹ گفتگو کا بھی موقع ملا۔
جہلم شہر کی یہ لائبریری کم و بیش 120 سال پرانی ہے، جو متحدہ ہندوستان کے عظیم سماجی اور سیاسی رہنما لالہ لاجپت رائے کے نام پر بنائی گئی تھی اور جس کا نام قیامِ پاکستان کے بعد بدل کر علامہ اقبال پبلک لائبریری رکھ دیا گیا تھا۔
لالہ لاجپت رائے تحریکِ آزادیِ ہند کے پُرجوش انقلابی لیڈر اور پنجابی زبان کے مصنف تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ادیب اور مؤرخ بھی تھے۔ ہندوستان کی آزادی کے لیے ان کی سیاسی جدوجہد تاریخ کے سنہری حروف میں لکھی جاتی ہے۔
جہلم لٹریری فیسٹیول ڈپٹی کمشنر جہلم میر رضا اوزگن کی زیرِ صدارت تھا، جس کے مہمانِ خصوصی جہلم سے ہی تعلق رکھنے والے میجر جنرل (ر) اظہر محمود کیانی (مشیرِ صحت وزیرِ اعلیٰ پنجاب) تھے۔
اگرچہ سوشل میڈیا پر معدودے چند خود ساختہ شعرا نے اس فیسٹیول پر تنقید بھی کی کہ ان "خود ساختہ شعرا” کے علاوہ باقی سب شہرت کے بھوکے مہمان و شرکا شریک ہوئے، لیکن شاید ایسا ہرگز نہیں تھا۔ عین ممکن ہے کہ انہیں مدعو نہ کرنے پر وہ اس ردِعمل کا اظہار کر رہے ہوں۔
بہرحال، ضلعی انتظامیہ اور جذبہ نیوز کی اخباری رپورٹ کے مطابق جہلم لٹریری فیسٹیول میں میجر جنرل (ر) اظہر محمود کیانی، ڈپٹی کمشنر جہلم میر رضا اوزگن، اے سی جہلم، اے سی سوہاوہ، ڈی ایس پی جہلم، صدر چیمبر آف کامرس جہلم، انجمن تاجران جہلم کے نمائندگان کے علاوہ جہلم اور قرب و جوار سے شعرا، ادبا، دانشور، اساتذہ، طلبہ، اہلِ قلم، ادبی شخصیات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
فیسٹیول کے دوران مشاعرے، ادبی نشستیں، فکری مکالمے اور ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعے ادب، مطالعہ، تخلیقی اظہار اور علمی شعور کے فروغ کو اجاگر کیا گیا، جبکہ نوجوان نسل کو کتاب دوستی اور مثبت فکری سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
مجھے اس فیسٹیول کے آخری سیشن میں چند منٹ گفتگو کرنے کا موقع ملا، جس کا خلاصہ نظرِ قارئین ہے۔
نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم۔ اما بعد
قال النبی ﷺ: من لم یشکر الناس لم یشکر اللہ
قابلِ احترام صدرِ محترم، معزز شعرا و ادبا، اہلِ قلم حضرات اور علم و دانش سے محبت کرنے والے حاضرینِ محفل!
آج کا دن ہمارے اس تاریخی اور قدیم شہر کی تاریخ میں ایک سنہری باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس زمین کی مٹی سے برسوں تک تہذیبوں کی خوشبو آتی رہی، آج ہم اسی مٹی پر علم کے ایک ایسے مرکز کا ازسرِ نو افتتاح کر رہے ہیں، جو ماضی کی بازگشت کو مستقبل کے روشن چراغوں سے جوڑنے کا کام کرے گا۔
آپ حضرات جانتے ہیں کہ لائبریری صرف دیواروں، چھتوں اور کتابوں کا مجموعہ نہیں ہوتی بلکہ یہ کسی بھی قوم کی اجتماعی یادداشت کا مسکن ہوتی ہے۔ ایک قدیم شہر میں قدیمی لائبریری کی ازسرِ نو تزئین و آرائش ایسا ہی ہے جیسے کسی بوڑھے تن آور درخت کی جڑوں کو دوبارہ سیراب کرنا تاکہ اس پر نئی کونپلیں پھوٹ سکیں۔
ہم ایسے شہر میں کھڑے ہیں جس کی گلیوں نے زمانے کے عروج و زوال دیکھے ہیں۔ یہاں کے مکینوں نے صدیوں تک علم کی شمعیں جلائے رکھیں، لیکن بدلتے وقت کے ساتھ ہمیں ایک ایسے مقام کی ضرورت تھی جو ہماری ادبی میراث کو محفوظ بھی کر سکے اور نئے ذہنوں کو تحقیق اور تخلیق کی راہ بھی دکھا سکے۔
جنابِ نبی کریم ﷺ کا ارشادِ پاک ہے کہ: "جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا، وہ اللہ تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔”
سو اس حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں سب سے پہلے تو میں اس تاریخی اور قدیمی لائبریری کی ازسرِ نو تزئین و آرائش کروانے اور اسے پھر سے آباد کرنے پر اہلیانِ جہلم کی طرف سے ڈپٹی کمشنر جہلم جناب میر رضا اوزگن، وفاقی وزیرِ مملکت جناب بلال اظہر کیانی، جناب گگن شاہد (بک کارنر شوروم) اور ان کے جملہ رفقائے کار کا بے حد شکریہ ادا کرتا ہوں، جن کی دلچسپی اور مساعی سے کھنڈرات میں تبدیل ہونے والی اس لائبریری کو گویا ایک نئی زندگی ملی ہے۔
اور اس کے ساتھ ساتھ جذبہ نیوز جہلم کے ایڈیٹر اِن چیف جناب محمد راحیل خلیل اور ان کے تمام معاونین و منتظمین کو اس کامیاب فیسٹیول کے انعقاد پر مبارک باد پیش کرتا ہوں، جو چند دنوں سے مسلسل اس فیسٹیول کے انتظامات کی تگ و دو میں مصروفِ عمل ہیں۔
اس تاریخی لائبریری کی ازسرِ نو تزئین و آرائش کرنے اور اسے دوبارہ آباد کرنے کے حوالے سے مستقبل میں جب بھی بات کی جائے گی، یقیناً ان حضرات کا نام شامل کیے بغیر یہ تاریخ ادھوری ہوگی۔
آج کی گفتگو میں شعرا، ادبا، مصنفین اور دیگر اہلِ علم کی خدمت میں چند تجاویز پیش کرکے اجازت چاہوں گا۔
آج ہم جس مقام پر جہلم لٹریری فیسٹیول کا انعقاد کر رہے ہیں، شرکا کو اس تاریخی "لالہ لاجپت رائے لائبریری” کی اہمیت و حیثیت کے حوالے سے بھی بتایا جانا چاہیے۔
لالہ لاجپت رائے کی تحریکِ آزادیِ ہند میں اور علمی و ادبی دنیا میں کیا خدمات ہیں، آج ان کا یہاں تذکرہ ہونا چاہیے۔
اسی طرح جہلم کی تاریخ میں حضرت میاں محمد بخش رحمہ اللہ جیسے صوفیا، مولوی فقیر محمد جہلمیؒ اور مولوی کرم الدین دبیر جیسے اساطینِ علم، خطیبِ جہلم مولانا عبداللطیف جہلمیؒ جیسے ممتاز علما، شعرا، ادبا، مصنفین اور نمایاں اہلِ علم شخصیات کا تذکرہ بھی ہونا چاہیے۔
بطورِ خاص لائبریری کی اہمیت کے حوالے سے نوجوان نسل کو ضرور آگاہ کرنا چاہیے۔
میری یہ بھی خواہش ہے کہ جس طرح رب تعالیٰ کی توفیق سے ضلع جہلم کی تاریخ میں پہلی مرتبہ میں "تذکرۂ علمائے جہلم” کے عنوان پر مستقل دستاویز کی صورت میں کام کر رہا ہوں، اسی طرح جہلم کے شعرا، ادبا، مصنفین اور نامور عسکری و سیاسی شخصیات پر بھی مستقل تحقیقی کام ہونا چاہیے۔
لاجپت رائے لائبریری میں جہاں لالہ لاجپت رائے کے مختصر اور جامع تعارف پر ایک پینا فلیکس آویزاں ہونا چاہیے، وہاں جہلم کی تاریخ میں نمایاں صوفیا، علما، شعرا، ادبا، مصنفین، سیاسی، سماجی اور عسکری شخصیات کے مختصر تعارف پر مشتمل پینا فلیکس بھی آویزاں ہونے چاہئیں۔
اس تاریخی لائبریری کے ہال میں وقتاً فوقتاً سیمینار اور کتابوں کی اشاعت پر تقاریبِ رونمائی کا بھی اہتمام کیا جانا چاہیے۔
آخر میں اس عزم کے ساتھ کہ ہم اس لائبریری کو صرف ایک ذخیرۂ کتب نہیں بلکہ ایک متحرک تعلیمی مرکز بنائیں گے۔ ہم یہاں ادبی نشستیں، علمی مکالمے اور تحقیقی سیمینار منعقد کریں گے تاکہ یہ شہر اپنی پرانی علمی شان کو دوبارہ حاصل کر سکے۔
بارِ دیگر میں ان تمام افراد کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اس خواب کو حقیقت کا روپ دینے میں اپنا تن، من، دھن وقف کیا۔ خاص طور پر ہمارے ڈپٹی کمشنر میر رضا اوزگن اور ان کے جملہ معاونین، اور وہ تمام ہاتھ جنہوں نے خاموشی سے اس عمارت کو علم کی روشنی سے منور کرنے میں کردار ادا کیا۔
لکھاری قاری محمد نعمان فاروقی جامعہ صدیقیہ قادریہ کے مدیر اور مرکزی جامع مسجد مدنی محلہ شمالی ڈومیلی، ضلع جہلم کے خطیب ہیں.


