برطانیہ آنے والے غیر ملکیوں کیلئے آمدن کی حد کم کر دی گئی

لندن: حکومت نے فیملی ویزا کیلئے تنخواہ کی حد38ہزار700پاؤنڈ کرنے کے فیصلے کو واپس لیتے ہوئے اب کم از کم تنخواہ کی حد29ہزار پاؤنڈ مقرر کی ہے۔

ہوم سیکرٹری جیمز کلیورلی نے تقریباً دو ہفتہ قبل برطانیہ آنے والوں کی تعداد کو کم کرنے کیلئے جن اقدامات کا اعلان کیا تھا اس میں اس شق کو بھی شامل کیا گیا تھا کہ فیملی ویزا کیلئے 18600 پاؤنڈ کی تنخواہ کی حد کو بڑھا کر 38700 پاؤنڈ کر دیا جائے لیکن اس فیصلے پر شدید تنقید کی جارہی تھی اور حکومت پر دباؤ تھا کہ اس حد کو کم کرے تاکہ خاندان کے افراد اکھٹے ہو سکیں۔

لیبر پارٹی نے حکومت کے اس فیصلے کو ’’ٹوری حکومت کی افراتفری‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ شیڈو ہوم سیکرٹری ایویٹ کوپر کا کہنا تھا کہ حکومت نے کم از کم تنخواہ کی حد کو بڑھانے سے قبل مناسب انداز میں مشاورت نہیں کی تھی جس کے سبب اسے یہ فیصلہ واپس لینا پڑا ہے۔ حکومت نے گزشتہ برس 745000 آنے والوں کی تعداد میں کمی کیلئے نئے امیگریشن قوانین کا اعلان کیا تھا جو کہ آئندہ برس اپریل سے نافذ کئے جائیں گے۔

ہوم سیکرٹری جیمز کلیورلی نے کہا تھا کہ برطانیہ آنے کیلئے اسکلڈ ورکرز کی تنخواہ کی حد 38700 پاؤنڈ کر دی جائے گی اور برطانوی شہری یا یہاں آباد افراد اگر اپنی فیملی کے ارکان کو بلوانا چاہیں گے تو ان کو تنخواہ بھی کم از کم 38700 پاؤنڈ ہونی چاہئے۔ تاہم گزشتہ شام ہوم آفس کے منسٹر لارڈ مشارپ نے بتایا کہ اب آئندہ برس موسم بہار سے فیملی ویزا کیلئے تنخواہ کی حد 29 ہزار پاؤنڈ ہوگی۔جسے بعد میں بڑھا کر 34500 اور پھر 38700 پاؤنڈ کر دیا جائے گا لیکن اس کی تاریخ نہیں بتائی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے متاثر ہونے والوں کو اس حوالے سے تیاری کرنے کا وقت مل جائے گا۔ ہوم آفس نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ فیملی ویزا کی تجدید کرانے والوں پر پرانے قواعد ہی لاگو ہونگے۔ ہوم آفس کی فیکٹ شیٹ کے مطابق فائیو ائیر پاٹنر روٹ کے تحت فیملی ویزا اور کم از کم تنخواہ کے تحت درخواست دینے والوں پر تنخواہ کی نئی سطح کا اطلاق نہیں ہوگا۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ستمبر میں ختم ہونے والے برس تک 82395 فیملی ویزا جاری ہوئے جن میں سے 79 فیصد پارٹنرز، 13 فیصد بچوں اور 8 فیصد دیگر عزیزوں کیلئے جاری ہوئے۔ ڈائریکٹر آف دی یونیورسٹی آف آکسفورڈ مائیگریشن آبزرویٹری میڈیلین سمپشن دیگر یورپی ممالک کی نسبت 29 ہزار پاؤنڈ تنخواہ کی شرط اب بھی زائد ہے۔

بعض ٹوری اراکین پارلیمنٹ جوناتھن گلس اور سرجان ہیز نے حکومت کی طرف سے فیملی ویزا کیلئے فیصلے پر نظرثانی کو نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا کہ لوگوں کی برطانیہ آمد کو کم کرنے کیلئے ایسا کرنا ضروری تھا۔لبرل ڈیموکریٹ کم از کم تنخواہ کی حد 38,700 کا منصوبہ کام ہی نہیں کرے گا۔

کمپین گروپ ری یونائیٹ فیملیز جس نے حکومت کے فیصلے کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا اعلان بھی کیا تھا نے کہا ہے کہ 29 ہزارپاؤنڈ کی شرط اب بھی بہت زیادہ ہے۔ تنخواہ کی حد آہستہ آہستہ بڑھانے کا فیصلہ بھی حیران کن ہے جبکہ یہ نظام پہلے ہی کافی پیچیدہ ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button