دینہ، سوہاوہ اور پنڈدادنخان انتہائی پسماندہ علاقے ہیں، اگلا دور جماعت اسلامی کا ہے۔ ڈاکٹر فرید پراچہ

ڈاکٹر فرید پراچہ نے کہا کہ عوام کے پاس اب موقع ہے 8 فروری کو آزمائے ہوؤں کو دوبارہ ووٹ دینے کی بجائے جماعت اسلامی کے دیانتدار ، جرائتمند اور حلقہ کے مسائل سے شناسا لوگوں کو کامیاب کرائیں اور ترازو پر مہر لگا کر انہیں کامیاب کرائیں۔

مرکزی نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان سابق ایم این اے ڈاکٹر فرید پراچہ نے جماعت اسلامی ضلع جہلم کے ہیڈ کوارٹر پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام 76 سالوں سے ووٹ والے دن برادری اور دھڑے والوں کو ووٹ دے کر پھر سارا عرصہ مہنگائی اور مسائل کی دلدل میں دھنسے رہتے ہیں لیکن اگلے پانچ سال پھر پرانے چہروں کے جھوٹے وعدوں پر اعتبار کر کے دھوکے کھاتے ہیں لیکن اب انشاء اللہ اگلا دور جماعت اسلامی کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پورے ملک سےہمیں اچھا ریسپانس مل رہا ہے، ہماری حکومت آئی تو ہم بجلی، گیس اور اشیائے خوردونوش سستی کریں گے۔ ملک میں انویسٹمنٹ کرنے والوں کو بجلی و ٹیکس کی مد میں چھوٹ دیں گے ، تھرمل کے بجائے پانی ، ہوا اور سولر پینل کے ذریعے سستی بجلی جو دس سے بارہ روپے فی یونٹ ہو گی وہ پیدا کریں گے۔

جہلم کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر فرید پراچہ نے کہا کہ دینہ ، سوہاوہ اور پنڈدادنخان انتہائی پسماندہ علاقے ہیں جہاں پانی اور سوئی گیس دستیاب نہیں، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں ، لوگوں کی زندگی اجیرن بنی ہوئی ہے۔ جہلم پنڈدادنخان دو رویہ روڈ کو جلد از جلد مکمل کیا جانا چاہئے۔

رہنما جماعت اسلامی نے کہا کہ ہماری فارن پالیسی تمام ملکوں سے برابری کی سطح پر تعلقات ہوں گے، بیرونی انویسٹرز کی جو یہاں صنعتیں لگا کر پیداوار کریں گے ان کی حوصلہ افزائی کریں گے، ابھی تو صورت حال یہ ہے کہ مہنگی بجلی اور مہنگا خام مال کی وجہ سے لوکل انویسٹرز پاکستان سے باہر انویسٹ کر رہے ہیں۔

مرکزی نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان نے کہا کہ ہم نوجوانوں کو بلا سود قرضے دیں گے ، بے روزگاری الاؤنس ، بزرگ شہریوں کو وظیفہ دیں گے ، تعلیم اور صحت مفت کریں گے۔ مفت پٹرول ، مفت بجلی ختم کر کے کرپشن کا خاتمہ کریں گے جس سے معاشی انقلاب آئے گا اور وطن عزیز ترقی کی راہوں پر گامزن ہو گا۔

ڈاکٹر فرید پراچہ نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن بعض امیدواروں کی الیکشن کے حوالے سے بے ضابطگیوں کا نوٹس نہیں لے رہا ، ہمارا مؤقف ہے، بلا روک ٹوک ہر پارٹی کے امیدوار کو الیکشن میں حصہ لینے کا موقع دیا جائے اور یہ معاملہ عوام پر چھوڑا جائے کہ وہ کسے اپنا نمائندہ منتخب کرتی ہے۔

پی ٹی آئی کے انتخابی نشان کے حوالے سے سوال کے جواب پر ان کا کہنا تھا کہ اس پارٹی کو بھی چاہئے تھا کہ بروقت انٹرا پارٹی الیکشن کروا کر الیکشن کمیشن کے اس اعتراض کو دور کرتی، البتہ یہ بات تو ہے کہ ملک بھر میں صرف جماعت اسلامی ہی ایسی جماعت ہے جو باقاعدگی سے ہر سطح کے الیکشن مقررہ وقت پر کروا رہی ہے جبکہ دیگر پارٹیاں محض خانہ پوری سے کام چلاتی ہیں۔

مرکزی نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی نے اپنا انتخابی منشور نومبر 2023 میں پیش کر دیا تھا جبکہ باقی پارٹیاں ابھی تک اپنا منشور پیش نہیں کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے 241 قومی اسمبلی اور 524 صوبائی اسمبلیوں کے لیے امیدوار کھڑے کئے ہیں جن میں 90 خواتین بھی شامل ہیں ، پہلی دفعہ اتنی بڑی تعداد میں ھمارے امیدوار انتخابی میدان میں ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ 8 فروری کو ترازو پر مہر لگا کر جماعت اسلامی کے امیدواروں کو کامیاب کرائیں ہم انہیں مایوس نہیں کریں گے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button