جہلم کا ایک اور بہادر سپوت مادر وطن پر قربان ہو گیا، شہید کیپٹن حسنین اختر کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا۔
جہلم کی تحصیل پنڈدادنخان کے علاقے دولت پور کے رہائشی پاک فوج کے کیپٹن حسنین اختر ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے دوران دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔
24 سالہ شہید کیپٹن حسنین اختر کی نماز جنازہ پنڈدادنخان ادا کر دی گئی۔ نماز جنازہ میں کور کمانڈر منگلا، کور کمانڈر پشاور، شہریوں اور سول سوسائٹی سمیت پاک فوج کے جوانوں نے شرکت کی۔

شہید کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا۔ پاک فوج کے چاک و چوبند دستے نے سلامی پیش کی جبکہ اعلیٰ فوجی حکام کی طرف سے شہید کی قبر پر پھولوں کی چادریں چڑھائی گئیں۔
شہید کیپٹن حسنین ریٹائرڈ حوالدار اختر حسین کے اکلوتے بیٹے اور اپنی تین بہنوں کے واحد بھائی تھے۔ کیپٹن حسنین نے اپنی چار سالہ سروس کے دوران بے شمار کامیاب آپریشنز میں حصہ لیا اور ہمیشہ دشمن کے خلاف ہراول دستے میں موجود رہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ روز آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے خوارج کے ٹھکانے پر مؤثر کارروائی کی، جس کے نتیجے میں تمام 10 دہشتگرد مارے گئے۔ تاہم شدید فائرنگ کے تبادلے میں 24 سالہ کیپٹن حسنین اختر بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔
@jhelumupdates جہلم کا ایک اور بہادر سپوت وطن پر قربان #Jhelum #JhelumUpdates #جہلم #PakistanNews #pageforyou #News #foryoupage❤️❤️ #Pakistan #JhelumNews #pakarmy #PDK #PindDadanKhan ♬ original sound – Jhelum Updates
آئی ایس پی آر کے مطابق کیپٹن حسنین اختر ایک بہادر افسر تھے اور گزشتہ آپریشنز کے دوران دلیرانہ اور جرات مندانہ کارروائیوں کے لیے مشہور تھے۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ آپریشن کے دوران مارے گئے خارجی دہشتگردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں کے ساتھ ساتھ معصوم شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ میں بھی ملوث تھے۔
کیپٹن حسنین کا تعلق 143 ویں لانگ کورس (PMA) سے تھا اور وہ پاک فوج کے اسپیشل سروس گروپ (SSG) کی تھرڈ کمانڈو بٹالین ’پوونداہ‘ میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ وہ ریٹائرڈ حوالدار اختر حسین کے اکلوتے بیٹے اور اپنی تین بہنوں کے واحد بھائی تھے۔
کیپٹن حسنین نے اپنی چار سالہ سروس کے دوران بے شمار کامیاب آپریشنز میں حصہ لیا اور ہمیشہ دشمن کے خلاف ہراول دستے میں موجود رہے۔

