جہلم: پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) ضلع جہلم کے سابق صدر ڈاکٹر ملک حفیظ الرحمٰن نے کوئٹہ میں لیڈی ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب پھینکنے کے افسوسناک واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت سوز، سفاکانہ اور معاشرے کے لیے انتہائی تشویشناک قرار دیا ہے۔
اپنے ایک بیان میں ڈاکٹر ملک حفیظ الرحمٰن نے کہا کہ ایک خاتون ڈاکٹر، جو انسانیت کی خدمت کے عظیم فریضے سے وابستہ ہیں، پر تیزاب پھینکنے جیسا گھناؤنا حملہ ناقابلِ برداشت اور قابلِ نفرت عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات نہ صرف خواتین کے تحفظ پر سوالیہ نشان ہیں بلکہ معاشرتی اقدار، انسانی حقوق اور قانون کی عملداری کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر ماہ نور پر ہونے والا حملہ پوری طبی برادری کے لیے باعثِ دکھ اور تشویش ہے۔ معاشرے میں خدمات انجام دینے والے افراد کو اس طرح کے جرائم کا نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک ہے اور اس کی ہر سطح پر مذمت کی جانی چاہیے۔
ڈاکٹر ملک حفیظ الرحمٰن کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں ملوث عناصر کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں۔ انہیں قانون کے مطابق کڑی سے کڑی سزا دی جانی چاہیے تاکہ آئندہ کوئی شخص ایسی گھناؤنی حرکت کرنے کی جرات نہ کر سکے اور معاشرے میں قانون کی بالادستی قائم رہے۔
انہوں نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور تیزاب گردی جیسے سنگین جرائم کے سدباب کے لیے مزید مؤثر اور سخت اقدامات کیے جائیں۔
سابق صدر پی ایم اے ضلع جہلم نے ڈاکٹر ماہ نور اور ان کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ اس مشکل گھڑی میں پوری طبی برادری ڈاکٹر ماہ نور کے ساتھ کھڑی ہے اور انہیں ہر ممکن اخلاقی حمایت حاصل رہے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کے خلاف تشدد، ہراسگی اور تیزاب گردی جیسے جرائم کے خاتمے کے لیے اجتماعی شعور بیدار کرنے اور قانون پر سختی سے عملدرآمد کی ضرورت ہے تاکہ خواتین خود کو معاشرے میں محفوظ محسوس کر سکیں۔


