جہلم شہر اور ملحقہ علاقوں میں بڑھتی ہوئی تجاوزات اور ریڑھی کلچر شہریوں کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔
بازاروں، سڑکوں، چوراہوں اور دیگر عوامی مقامات پر پھیلی تجاوزات نہ صرف ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ بن رہی ہیں بلکہ خریداروں اور راہ گیروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
شہریوں کے مطابق سڑکوں کے کنارے لگنے والی ریڑھیاں اور دکانوں کے سامنے رکھے گئے سامان کے باعث پیدل چلنے والوں کے لیے راستہ تنگ ہو گیا ہے۔ ان تجاوزات کے باعث اکثر ٹریفک حادثات پیش آتے ہیں، جن میں متعدد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ گزشتہ مہینوں میں ناجائز تجاوزات کے باعث کئی خطرناک واقعات رونما ہو چکے ہیں، جن میں قیمتی جانوں کا نقصان بھی ہوا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ٹریفک پولیس اور میونسپل کمیٹی کا انسداد تجاوزات شعبہ شہری مسائل سے مکمل لاتعلق دکھائی دیتا ہے۔ انسداد تجاوزات کی ذمہ دار ٹیمیں موقع پر موجود ہونے کے باوجود کارروائی کرنے سے گریز کرتی ہیں، جس کے باعث تجاوزات میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
عوامی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر جہلم سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لیتے ہوئے انسداد تجاوزات مہم کا آغاز کیا جائے، ریڑھیوں اور غیر قانونی شورومز کو ہٹایا جائے اور شہر میں ٹریفک اور پیدل چلنے والوں کے لیے محفوظ راستے بحال کیے جائیں تاکہ مزید جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔


