جہلم: عشرہ محرم الحرام کے دوران جہلم شہر سمیت ضلع بھر کے قبرستانوں میں شہریوں کی آمد کا سلسلہ زور و شور سے جاری ہے۔
شہری بڑی تعداد میں اپنے مرحوم والدین، رشتہ داروں اور عزیزوں کی قبروں پر حاضری دے رہے ہیں، قرآن پاک کی تلاوت، فاتحہ خوانی، قبروں کی صفائی و مرمت اور پھول نچھاور کرنے جیسے مذہبی و روایتی فرائض انجام دے رہے ہیں۔
عام دنوں میں ویران دکھائی دینے والے قبرستانوں میں ان دنوں رونق کا سماں ہے، جبکہ پھول بیچنے والوں، گورکنوں اور قبروں کی مرمت کرنے والوں کا کاروبار بھی خوب چمک اٹھا ہے۔ پھول بیچنے والے دکاندار اپنی مرضی کے نرخ وصول کر رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود شہری بڑی عقیدت سے پھول خرید کر اپنے مرحومین کی قبروں پر نچھاور کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
بزرگ شہریوں محمد جاوید انور بھٹی، میاں محمد اسحاق اور حاجی تاج دین نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محرم الحرام کے دوران قبرستانوں میں آنا ایک پرانی روایت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "جب انسان قبرستان آتا ہے تو اسے اپنی موت کا بھی احساس ہوتا ہے، اور یہ شعور پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں بھی ایک دن اسی مقام پر آنا ہے”۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ ایام محض غم و سوگ کے ہی نہیں بلکہ خود احتسابی، عہد نو اور زندگی کے مقصد کو سمجھنے کے لیے بھی اہم ہیں۔ قبرستانوں کی رونقیں اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ شہداء کربلا کے ایام ہمیں صرف ماضی کی یاد نہیں دلاتے بلکہ ہمارے اپنے پیاروں کی یادیں بھی تازہ کر دیتے ہیں۔


