جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں پھلوں اور سبزیوں کی مبینہ طور پر سرکاری نرخنامے سے زائد قیمتوں پر فروخت کا سلسلہ جاری ہے، جس پر شہریوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سبزی منڈیوں اور بازاروں میں متعدد پھل اور سبزیاں سرکاری نرخوں سے زیادہ قیمتوں پر فروخت کی جا رہی ہیں۔ شہریوں کے مطابق دکاندار سرکاری ریٹ لسٹ پر عملدرآمد کرنے کے بجائے من مانے نرخ وصول کر رہے ہیں، جس کے باعث عام صارفین خصوصاً کم آمدن اور سفید پوش طبقہ شدید متاثر ہو رہا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق دوسہری آم کی سرکاری قیمت 190 روپے فی کلو مقرر ہونے کے باوجود بعض مقامات پر 200 سے 250 روپے فی کلو فروخت کیے جا رہے ہیں، جبکہ آلو بخارا 289 روپے کے بجائے 300 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔ اسی طرح کیلا (اول) 190 روپے فی درجن کی بجائے 250 روپے فی درجن تک فروخت کیے جانے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔
سبزیوں میں بھی سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد نہ ہونے کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ شہریوں کے مطابق اروی کی سرکاری قیمت 115 روپے فی کلو ہونے کے باوجود بعض دکانوں پر 189 روپے فی کلو فروخت کی جا رہی ہے۔ ٹماٹر 190 روپے کے بجائے 250 روپے فی کلو، پیاز 105 روپے کی بجائے 150 روپے فی کلو، شملہ مرچ 120 روپے کے بجائے 200 روپے فی کلو جبکہ کریلا 95 روپے کی بجائے 150 روپے فی کلو فروخت کیے جانے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے موجودہ دور میں سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد نہ ہونے سے روزمرہ اخراجات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے اور عام آدمی کے لیے بنیادی ضروریات کی خریداری بھی مشکل بنتی جا رہی ہے۔
شہریوں نے ڈپٹی کمشنر جہلم، ضلعی انتظامیہ اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس سے مطالبہ کیا ہے کہ بازاروں اور سبزی منڈیوں میں مؤثر چیکنگ کو یقینی بنایا جائے، سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد کرایا جائے اور گراں فروشی میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔


