Jhelum UpdatesJhelum Updates
  • صفحۂ اول
  • جہلم
  • دینہ
    • منگلا
  • سوہاوہ
    • ڈومیلی
    • پڑی درویزہ
  • پنڈدادنخان
    • کھیوڑہ
    • جلالپور شریف
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • مزید
    • امیگریشن اور سفر
    • لائف اسٹائل
      • دلچسپ و عجیب
      • صحت
    • پاکستان
    • دنیا
    • ٹیکنالوجی
    • کاروبار
    • کھیل
    • تعلیم
    • سیاست
پڑھنا: آسٹریلیا کی نئی 10 سالہ امیگریشن پالیسی کیا ہے اور آسٹریلیا جانے کے خواہاں پاکستانیوں کیلئے اس میں خاص کیا ہے؟
شیئر کریں
فونٹ سائز تبدیل کریںAa
فونٹ سائز تبدیل کریںAa
Jhelum UpdatesJhelum Updates
  • جہلم
  • دینہ
  • سوہاوہ
  • پنڈدادنخان
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • امیگریشن اور سفر
سرچ
  • صفحۂ اول
  • ضلع جہلمضلع جہلم
    • جہلم
    • دینہ
    • سوہاوہ
    • پنڈدادنخان
    • منگلا
    • ڈومیلی
    • کھیوڑہ
    • جلالپور شریف
    • پڑی درویزہ
  • بک مارکس
    • My Bookmarks
    • Customize Interests
  •  
    • پاکستان
    • اوورسیز پاکستانی
    • امیگریشن اور سفر
    • سیاست
    • کاروبار
    • کھیل
    • دنیا
    • صحت
    • تعلیم
  • کالم و مضامین
  • ٹیکنالوجی
    • موبائل فون
ہمیں فالو کریں
جہلم اپڈیٹس © 2023, تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں

آسٹریلیا کی نئی 10 سالہ امیگریشن پالیسی کیا ہے اور آسٹریلیا جانے کے خواہاں پاکستانیوں کیلئے اس میں خاص کیا ہے؟

رپورٹ: محمد صہیب

بی بی سی اردو
بی بی سی اردو
14 دسمبر, 2023
شیئر کریں
شیئر کریں

آسٹریلیا کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ دو برسوں میں ’مشکلات کا شکار‘ آسٹریلین امیگریشن نظام میں بہتری لانے کے لیے ملک میں آنے والے غیرملکیوں کی تعداد نصف کر دیں گے۔

یہ اعلان پیر کو ملک کی ’10 سالہ مائیگریشن سٹریٹیجی‘ کی تقریب رونمائی پر کیا گیا ہے جس کے باعث عارضی ویزوں پر آسٹریلیا میں مقیم غیر ملکی طلبا کے سب سے زیادہ متاثر ہونے کے امکانات ہیں۔

کسی بھی ملک کی مائیگریشن پالیسی میں تبدیلی وہاں مقیم غیرملکیوں یا وہاں جانے کے خواہاں افراد کے لیے ایک انتہائی اہم خبر ہوتی ہے۔ سڈنی میں مقیم ڈاکٹر عائشہ جہانگیر کے پاس بھی ایسے افراد کا تانتا بندھا ہوا ہے جو اس نئی پالیسی کے حوالے سے رہنمائی لینا چاہتے ہیں۔

ڈاکٹر عائشہ جہانگیر سڈنی کی یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے سینٹر فار میڈیا ٹرانزیشن میں بطور پوسٹ ڈاکٹریٹ ریسرچ فیلو کام کر رہی ہیں اور ماضی میں وہ ایک مائیگریشن ایجنسی کے ساتھ تین سال تک منسلک بھی رہی ہیں۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس پالیسی کے حوالے سے جاری بحث اور آسٹریلیا میں مائیگریشن سٹریٹجی کے حوالے سے عمومی ماحول کا احاطہ کیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’ابھی پالیسی آئے 48 گھنٹے ہوئے ہیں تو کافی بے یقینی موجود ہے اور لوگ الجھن کا شکار ہیں۔‘

’انھیں یہ سمجھ نہیں آ رہی ہے کہ یہ پالیسی انھیں کس طرح سے متاثر کر سکتی ہے۔ کیا وہ تارکین وطن جن کے ویزے ابھی پراسیسنگ میں ہیں، کیا وہ بھی متاثر ہوں گے؟‘

ایسا صرف ڈاکٹر عائشہ کے ساتھ ہی نہیں ہوا بلکہ سڈنی میں ہی مقیم پاکستانی طالبعلم عمار رندھاوا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پالیسی آنے کے بعد سے انھیں دو سے تین کالز آ چکی ہیں۔

’یہ ایسے پاکستانی طلبا کی کالز تھیں جن کے ویزوں کو (اس پالیسی کے بعد) منسوخی کا خطرہ لاحق ہے۔

’وہ اب پی ایچ ڈیز میں داخلہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ آسٹریلوی حکومت نے کہا ہے کہ ہمیں ہنرمند افراد کی ضرورت ہے۔‘

عمار خود کورونا کی عالمی وبا سے قبل آسٹریلیا اعلیٰ تعلیم کی غرض سے گئے تھے اور گذشتہ پانچ سال سے سڈنی میں ہی مقیم ہیں۔ اب وہ اپنا ماسٹرز کر چکے ہیں اور پی ایچ ڈی کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

عمار بتاتے ہیں کہ ان کو کالز کرنے والوں میں سے کچھ تو واقعی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواہاں ہیں لیکن کچھ ایسے ہیں جو صرف ایسا ویزا کے لیے کرنا چاہتے ہیں۔ ’لیکن وہ پھر بھی پی ایچ ڈے کے لیے پروپوزل لکھنا چاہتے ہیں یا ایسے شعبوں میں داخلہ لینا چاہتے ہیں جن کی آسٹریلوی حکومت کو ضرورت ہے۔‘

خیال رہے کہ آسٹریلیا کے ادارۂ شماریات کے مطابق گذشتہ ایک سال کے دوران ملک میں آنے والے غیر ملکی تارکین وطن افراد کی تعداد پانچ لاکھ دس ہزار رہی ہے جبکہ کووڈ کی پابندیاں لاگو ہونے سے قبل یہ تعداد سالانہ ڈھائی لاکھ کے لگ بھگ ہوا کرتی تھی۔

لیکن یہ نئی دس سالہ پالیسی کیا ہے، اسے آسٹریلوی حکومت کی جانب سے اب کیوں لاگو کیا گیا ہے اور اس کے بارے میں آسٹریلیا میں مقیم پاکستانی کیا سوچ رہے ہیں، آئیے جانتے ہیں۔

نئی پالیسی کیا ہے؟

تو قصہ مختصر یہ کہ آسٹریلوی حکومت نے پیر کو نئی دس سالہ مائیگریشن سٹریٹیجی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسے جون 2025 تک غیرملکیوں کے ملک میں داخلے کی سالانہ تعداد کم کر کے ڈھائی لاکھ تک محدود کرنے کی امید ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق آسٹریلیا میں اس وقت لگ بھگ ساڑھے چھ لاکھ غیر ملکی طلبا مقیم ہیں اور ان میں سے بیشتر پہلے عارضی ویزے (سٹوڈنٹ ویزا) کی میعاد پوری ہونے کے بعد دوسرے ویزا حاصل کر کے یہاں مقیم ہیں۔

نئے منصوبے کے تحت بین الاقوامی طلبا اور کم ہنر والے ورکرز کے ویزا قواعد کو مزید سخت کیا جائے گا۔

اب بھی ملک میں ہنر مند ورکرز کی کمی ہے اور ان کی ملک میں آمد کے حوالے سے اب بھی مشکلات موجود ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اس سے پہلے موجود ’عارضی سکلز شارٹج‘ ویزا کی جگہ ’سکلز ان ڈیمانڈ‘ ویزا کا اجرا کیا جائے گا۔ اس چار سال پر محیط ویزا کے لیے تین مختلف راستے ہوں گے۔ ایک راستہ ’سپیشلسٹ سکلز‘ رکھنے والے افراد کے لیے ہو گا اور اس کے ذریعے ٹیکنالوجی اور توانائی کے شعبوں سے منسلک انتہائی باصلاحیت افراد کو آسٹریلیا بلانے کی کوشش کی جائے گی۔

ایک راستہ ’کور سکلز‘ یعنی بنیادی صلاحیتوں کے حوالے سے ہو گا جس میں شعبوں کی فہرست کو آسٹریلوی مارکیٹ کی ڈیمانڈ کے اعتبار سے تبدیل کیا جاتا رہے گا۔ لیکن اس راستے سے ورک فورس کی کمی کو پورا کیا جائے گا۔

تیسرا راستہ ’ضروری صلاحیتوں‘ کے حوالے سے ہے یعنی ہیلتھ کیئر جیسے شعبے جہاں ورکرز کی کمی ہے۔ اس کے حوالے سے تفصیلات ابھی زیرِ غور ہیں۔

ان نئے قوانین میں بین الاقوامی طلبا کے لیے انگریزی زبان کے ٹیسٹ یعنی آئلٹس کے حوالے سے سخت معیار رکھے گئے ہیں۔

یعنی پہلے جہاں گریجویٹ ویزا کے لیے آئلٹس 6 بینڈ کی ضرورت ہوتی تھی اب وہ بڑھا کر 6.5 کر دی گئی ہے۔ جبکہ سٹوڈنٹ ویزا کے لیے آئلٹس کی شرط 5.5 سے بڑھا کر 6 کر دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ دوسری مرتبہ ویزا کی درخواست دینے والوں سے مزید سوالات کیے جائیں گے۔ اس دوران انھیں یہ ثابت کرنا ہو گا کہ مزید پڑھائی سے انھیں اپنے کریئر یا اپنی تعلیم میں بہتری لانے میں کیسے مدد مل سکے گی۔

ایسے تارکینِ وطن جن کے پاس ’مخصوص‘ یا ’ضروری‘ ہنر موجود ہیں ان کے لیے ویزا حاصل کرنے کے طریقے بھی بہتر کیے گئے ہیں تاکہ انھیں مستقل رہائش حاصل کرنے کے لیے بہتر مواقع دیے جا سکیں۔

آسٹریلیا کے وزیر داخلہ کلیئر او نیل کا کہنا تھا کہ نئی پالیسی سے آسٹریلیا میں ایسے ہنر مند افراد کو آنے کا موقع ملے گا جن کی ملک کو زیادہ ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ جو لوگ پہلے سے ہی ملک میں رہ رہے ہیں، کام کر رہے ہیں اور پڑھ رہے ہیں ان کے استحصال کا خاتمہ کیا جا سکے گی۔

’جعلی‘ کالجز اور جھانسے میں آنے والے طلبا

ڈاکٹر عائشہ جہانگیر سڈنی کی یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے سینٹر فار میڈیا ٹرانزیشن میں بطور پوسٹ ڈاکٹریٹ ریسرچ فیلو کام کر رہی ہیں اور ماضی میں وہ ایک مائیگریشن ایجنسی کے ساتھ تین سال تک منسلک بھی رہی ہیں

آسٹریلیا کی حکومت کی جانب سے ایک اصطلاح ’بیک ڈور‘ کے بارے میں بھی اس 99 صفحات پر مشتمل سٹریٹجی میں بار بار بات کی گئی ہے جس کے ذریعے مختلف ’جعلی‘ کالجز طلبا کو آسٹریلیا لے آتے ہیں لیکن پھر ان کی ان ڈگریوں کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا ہے۔

ان ’جعلی‘ کالجز کے حوالے سے آسٹریلیا کے مقامی اخبارات سے لے کر حکومتی سطح پر پہلے بھی بات کی جاتی رہی ہے لیکن اس مرتبہ حکومت ایک مربوط کریک ڈاؤن کا عندیہ دے رہی ہے۔

اس بارے میں ڈاکٹر عائشہ نے بی بی سی سے بہت تفصیل سے بات کی ہے۔

’ہوتا یہ ہے کہ یہ کالجز یا ادارے طلبا کو آسٹریلیا لانے میں مدد تو کر دیتے ہیں لیکن یہاں کی جو ورک فورس ہے اس میں ان کی جگہ نہیں بن پاتی۔‘

’کیونکہ یہاں مقابلہ صرف ایک قصبہ یا ایک شہر کے لوگوں کے درمیان نہیں بلکہ دنیا بھر سے آنے والے لوگوں کے درمیان ہوتا ہے۔‘

عائشہ کہتی ہیں کہ ’تو پھر یہ تارکینِ وطن عام طور پر نظام میں فٹ نہیں ہو پاتے بلکہ بوجھ بن جاتے ہیں اور ان کے لیے ’مستقل طور پر عارضی‘ کی اصطلاح استعمال ہونے لگتی ہے۔‘

ہم نے سڈنی اور میلبرن میں مقیم ایسے ہی چند پاکستانی طلبا سے بات کرنے کی کوشش کی جو ان کالجز کے ذریعے آسٹریلیا آئے تھے اور اب اوبر چلا کر گزر بسر کر رہے ہیں اور اس تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ اکثر طلبا نے ہم سے بات کرنے سے انکار کیا تاہم ایک طالبعلم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ہم سے مختصر بات کی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ وہ کیسے بھاری رقم کے عوض کئی سال پہلے آسٹریلیا آئے تھے لیکن پھر نہ صحیح طریقے سے پڑھائی پر توجہ دے سکے اور نہ ہی اتنا کما سکے کہ کسی اچھی یونیورسٹی میں داخلہ لے سکیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’اب ہم پھنسے ہوئے ہیں، حکومت کو چاہیے کہ ہمارے ساتھ جنھوں نے زیادتی کی ہے ان پر کریک ڈاؤن ضرور کرے لیکن ہمیں کوئی رعایت دے۔‘

اخراجات زیادہ آمدن کے مواقع کم

خیال رہے کہ آسٹریلیا میں اب نظامِ زندگی گزرانے کے لیے اخراجات میں اضافہ ہو گیا ہے اور کرائے پر رہنے کے لیے مکان لینا مشکل ہو گئے ہیں اور طلبہ کو کام یا پڑھائی کی جگہ سے خاصا دور رہنا پڑتا ہے۔

عمار رندھاوا نے سڈنی سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس پالیسی میں طلبا اب ہر ہفتے چالیس کی بجائے صرف 20 گھنٹے کام کر سکیں گے۔ یہ وہ رعایت ہے جو انھیں کووڈ کے دوران دی گئی تھی۔

عمار کا کہنا ہے کہ ’یہاں پر کرائے بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں، دو سال پہلے تک آپ کو سٹوڈیو 300 ڈالر میں مل جاتا تھا اب آپ کو کمرے 250 ڈالر سے کم کے نہیں مل رہے۔ اب زیادہ طلبا کو جو مسئلہ آئے گا وہ مالی بحران کا ہو گا، انھیں اپنی فیس دینے میں مسائل کا سامنا ہو گا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’پہلے ہم چالیس گھنٹے ہفتے میں کوئی بھی کام کر کے کم سے کم 1500 ڈالر بنا لیتے تھے، جن میں سے لگ بھگ ایک ہزار ڈالرتک ہم بچا کر مہینے کے چار ہزار ڈالر بچا لیتے تھے اور یوں فیس ادا کرنے کے قابل ہو جاتے تھے۔‘

’اب صورتحال یہ ہے کہ حکومت نے دوبارہ ہفتے میں صرف 20 گھنٹے کی گنجائش رکھی ہے اور اب تو کرائے بھی اتنے بڑھ گئے ہیں تو طلبا کا گزارا کیسے ہو گا۔‘

خیال رہے سنہ 2008 اور 2009 کے دوران آسٹریلیا میں انڈین طلبا کی جانب سے ملک میں ان کے خلاف ہونے والے جرائم کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے تھے اور یہ آسٹریلیا اور انڈیا کے درمیان سفارتی خلیج کا باعث بنے تھے

ڈاکٹر عائشہ یہاں ایک اور اہم پہلو کی طرف توجہ دلواتی ہیں اور وہ اس طرح کے موقعوں پر عموماً تارکین وطن کے بارے میں مقامی آبادی کے جذبات کے بارے میں ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’جب حکومتوں کی جانب سے اس قسم کی بات کی جاتی ہے لوگ بیک ڈور کے ذریعے ملک میں داخل ہوتے ہیں اور نظام میں موجود خامیوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں تو معاشرہ اسے مختلف نظریے سے دیکھ سکتا ہے۔‘

خیال رہے سنہ 2008 اور 2009 کے دوران آسٹریلیا میں انڈین طلبا کی جانب سے ملک میں ان کے خلاف ہونے والے جرائم کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے تھے اور یہ آسٹریلیا اور انڈیا کے درمیان سفارتی خلیج کا باعث بنے تھے۔

ڈاکٹر عائشہ کہتی ہیں کہ ’حکومت کو چاہیے کہ وہ آسٹریلوی شہریوں کو جا کر سمجھائے کہ یہ کریک ڈاؤن اس لیے نہیں کیا جا رہا ہے غیر ملکی طلبا کی غلطی ہے بلکہ اس لیے کیونکہ یہاں کہ مقامی چھوٹے کاروبار ہی اس خامی کا غلط فائدہ اٹھاتے ہیں۔‘

یہ مضمون شیئر کریں
Facebook Flipboard Pinterest Whatsapp Whatsapp Reddit Telegram لنک کاپی کریں
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ہمیں فالو کریں

FacebookLike
XFollow
PinterestPin
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
TiktokFollow
WhatsAppFollow
LinkedInFollow
SnapchatSubscribe
ThreadsFollow
BlueskyFollow
Weather
37°C
Jhelum
broken clouds
37° _ 37°
42%
3 km/h
منگل
39 °C
بدھ
38 °C
جمعرات
39 °C
جمعہ
32 °C
ہفتہ
35 °C

تازہ ترین

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر تاجروں کی تشویش، مہنگائی سے عوام کی مشکلات بڑھنے کا خدشہ
26 جولائی, 2026
پنڈدادنخان میں ٹیوب ویل کے ٹینک میں نہاتے ہوئے 13 سالہ لڑکا ڈوب کر جاں بحق
26 جولائی, 2026
جہلم: مبینہ طور پر راہگیروں کو کاٹنے والے کتے کے مالک کے خلاف مقدمہ درج، ملزم گرفتار
26 جولائی, 2026
دریائے جہلم کے قریب مویشی چرانے والا نوجوان دریا میں ڈوب گیا
26 جولائی, 2026
آزاد کشمیر انتخابات؛ پیپلز پارٹی الزامات سے اپنی ناکامی نہیں چھپا سکتی، بلال اظہر کیانی
26 جولائی, 2026

شاید آپ یہ بھی پڑھنا پسند کریں

مصر میں حضرت موسیٰؑ کے دور کی قدیم تلوار دریافت

1 اکتوبر, 2024

تارکینِ وطن پر حملے کے مرتکب برطانوی کو 9 سال قید

8 ستمبر, 2024

ترکیہ کے جنگل میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی؛ 5 افراد ہلاک اور44 زخمی

21 جون, 2024

بھارتی سپریم کورٹ نے صدیوں پرانی مسجد کی مسماری کیلیے سروے رکوادیا

16 جنوری, 2024

اشتہارات اور خبروں کیلئے جہلم اپڈیٹس سے رابطہ کریں۔

  • [email protected]
  • [email protected]
تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں Follow us on Google News
  • Contact Us
  • Privacy Policy
  • Terms & Condition
  • About Us
  • Home

About US

The Largest News Network of Jhelum, Pakistan.
Quick Link
  • جہلم
  • دینہ
  • سوہاوہ
  • پنڈدادنخان
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • امیگریشن اور سفر

Subscribe US

Subscribe to our newsletter to get our newest articles instantly!

[mc4wp_form]
Jhelum UpdatesJhelum Updates
ہمیں فالو کریں
جہلم اپڈیٹس © 2023, تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں