جہلم: محکمہ بلدیات نے برتھ اور ڈیتھ رجسٹریشن کے نئے قواعد و ضوابط نافذ کر دیے ہیں جن کا باقاعدہ نوٹیفکیشن پنجاب گزٹ میں جاری کر دیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت نے شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں بہتری کے لیے ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے پیدائش اور موت کی رجسٹریشن کے نئے قوانین نافذ کر دیے ہیں، جن کا مقصد رجسٹریشن کے عمل کو مزید آسان اور قابل رسائی بنانا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، محکمہ لوکل گورنمنٹ نے پنجاب بھر میں برتھ اور ڈیتھ رجسٹریشن کے قوانین میں بہتری لاتے ہوئے باقاعدہ قانون سازی مکمل کر لی ہے اور اس حوالے سے قواعد کا نوٹیفکیشن پنجاب گزٹ میں جاری کر دیا گیا ہے۔
نئے قوانین کے تحت:
- سات سال تک کے بچوں کی پیدائش کی رجسٹریشن مکمل طور پر مفت ہوگی۔
- ایک سال تک کی عمر کے بچوں کا اندراج متعلقہ سیکرٹری یونین کونسل کرے گا۔
- سات سال تک کا اندراج اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے دائرہ اختیار میں ہوگا۔
- جبکہ سات سال سے زائد عمر کے افراد کا اندراج متعلقہ ڈپٹی ڈائریکٹر کے ذریعے ہوگا۔
اس اقدام سے شہریوں کو دفاتر کے چکر لگانے سے نجات ملے گی اور رجسٹریشن کا عمل تیز اور شفاف ہو گا۔
اس سے قبل، نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کی جانب سے پیدائش، موت اور ازدواجی حیثیت میں تبدیلی کی آن لائن رجسٹریشن کے لیے ایک موبائل ایپ تیار کی گئی تھی۔ نادرا کے ترجمان کے مطابق، یہ موبائل ایپ شہریوں کو گھر بیٹھے اہم زندگی کے واقعات کو رجسٹر کروانے کی سہولت فراہم کرے گی۔
ایپ کو ابتدائی طور پر پنجاب میں متعارف کرایا جائے گا، جہاں تمام یونین کونسلز میں بائیومیٹرک تصدیق کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ، اسلام آباد کی یونین کونسلز میں "نادرا آن ونڈو” کا نظام بھی قائم کیا جا رہا ہے تاکہ شہریوں کو مزید آسانیاں فراہم کی جا سکیں۔


