جہلم: پارٹی کے طور پر شروع ہونے والے آئس ( کرسٹل ) نشہ نے ہیروئن چرس، شراب اور افیون سمیت تمام منشیات کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
یہ نشہ پوش علاقوں کے بعد اب تعلیمی اداروں میں پہنچ چکا ہے۔نو جوان نسل اس نشہ کا شکار ہو کر جہاں اپنی زندگیوں کو ختم کرنے میں لگی ہوئی ہے، وہیں ان کے خاندان اپنے پیاروں کو نشہ کی لت میں دیکھ کر روتے پیٹتے اور مرتے دکھائی دیتے ہیں۔
انتہائی باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ روہتاس روڈ ،شمالی محلہ ،چونترہ ،کھرالہ کے بعد اب نشہ کالجز اور یونیورسٹیوں میں بھی منتقل ہورہا ہے ،کالجز اور یونیورسٹیوں کے طلبہ و طالبات کالجز و یونیورسٹیوں میں ہونے والی پارٹیوں کے موقع پر آئس ،کرسٹل، ہیروئن، چرس ،شراب اور افیون سمیت تمام منشیات کاا ستعمال کرتے ہیں،کالجز اور یونیورسٹیوں میں باقاعدہ نشہ پہنچایا جاتا ہے۔
اس طرح بگڑے گھروں کے رئیس زادے منشیات خرید کر اپنے ساتھیوں کو بھی نشئے کا عادی بناتے ہیں۔
شہری تنظیموں کے عمائدین نے ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ منشیات فروخت کرنے والے افراد پر کڑی نگرانی کی جائے اور کالجز و یونیورسٹیوں میں منشیات فروخت اور استعمال کرنے والے طلبہ و طالبات کو فارغ کیا جائے تاکہ نوجوان نسل کو منشیات جیسی لعنت سے بچایا جا سکے ۔


