جہلم: کمزور ملکی معیشت سیاسی عدم استحکام اور ملک میں لاء اینڈ آرڈر کی بگڑٹی ہوئی خراب صورتحال کے باعث، ستر فیصد عوام غربت و پسماندگی کا شکار، ملک مزید انتشار و فساد کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ملک و عوامی بہتری کی خاطر حکومت و اپوزیشن دونوں فریقین مذاکرات کرتے ہوئے آپسی اختلافات کو ختم کریں۔
ان خیالات کا اظہار ضلع جہلم کی مشہور سماجی شخصیت سید خلیل حسین کاظمی نے موجودہ ملکی صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اور نظام کے بیچ چل رہی جنگ ملک کی دنیا بھر میں جگ ہنسائی اور ملکی معیشت کو تباہی کا باعث بن رہی ہے۔ اقتدار و طاقت وقتی چیزیں ہیں، آج کے حکمران کل اپوزیشن میں ہوں گے اور جو آج اپوزیشن میں ہیں وہ کل حکمران ہو سکتے ہیں اور یہ سب کھیل ملکی سالمیت سے جڑے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دونوں فریقین کو آپسی لڑائی جھگڑے سے پہلے ملک کا سوچنا چاہیے، اس وقت پاکستان خطے کے دیگر ممالک سے کوسوں میل پیچھے رہ گیا ہے۔ آج افغانستان بھی ہم سے زیادہ بہتری کی جانب گامزن ملک بن چکا ہے جبکہ پاکستان آج سے چند دہائیوں قبل اس خطے میں سب سے زیادہ تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ملک ہوا کرتا تھا۔
سید خلیل حسین کاظمی نے کہا کہ ہم نے ماضی میں ملک کو دولخت ہوتے دیکھ کر بھی کچھ نہیں سیکھا۔ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے اور نظام کو کنٹرول کرنے والوں کو کھلی آنکھوں سے حالات کا احاطہ کر کے مثبت فیصلے کرنا ہوں گے۔ پاور اور اقتدار کے مزے لوٹنے کیلئے ملکی بنیادوں کو تگڑا کر کے دونوں مذکورہ فریقین عوام سے داد وصول کر سکتے ہیں مگر انا ضد و مخالفت کی آگ میں جل رہے۔ حکمران اور اپوزیشن ایک دوسرے کو نیچا دکھا نے کے چکر میں ملک کا بیڑا غرق کر رہے ہیں جس کا ملک متحمل نہیں ہوسکتا۔


