خیبر پختونخوا کے بعد اہل پنجاب بھی بل دینے سے کترانے لگے، گزشتہ مالی سال دوہزار 319 ارب روپے کی بجلی استعمال کی گئی ، صوبے کے 16 اضلاع سے 100 ارب روپے وصول نہ کیے جا سکے ۔
بل نہ دینے والے ضلع جہلم سمیت 16اضلاع سے متعلق تفصیلات سامنے آ گئیں۔
وزارت توانائی حکام کے مطابق مالی سال 2022-23 میں پنجاب سے 134 ارب روپے کا نقصان ہوا، رحیم یار خان نے 48 ارب روپے کی بجلی فروخت کی ،7 ارب کے بل ادا نہیں کیے۔
حکام وزارت توانائی کے مطابق راجن پور نے 8 ارب روپے کی بجلی لی اور ایک ارب روپے کے بل نہیں دیئے ، فیصل آباد نے 9 ارب ، لاہور سے 29 ارب روپے بجلی کے بل ادا نہیں ہوئے، راولپنڈی سے 5، اٹک سے 2 ،جہلم اور چکوال سے ایک، ایک ارب کے بل جمع نہیں ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ شیخوپورہ سے 12 ارب، قصور سے 19 ارب روپے کی ریکوری نہ ہو سکی، ملتان سے 3 ارب، بہاولپور سے 2 ارب، بہاول نگر سے 1 ارب کے بجلی بل ادا نہ ہوئے۔
حکام کے مطابق چنیوٹ، حافظ آباد، جھنگ، ننکانہ صاحب سے دو، دو ارب روپے کی ریکوری نہیں ہو سکی ہے ۔


