جہلم: پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی غفلت اور عدم توجہی کے باعث ضلع جہلم میں نویں جماعت کی درسی کتابیں تاحال دستیاب نہ ہو سکیں، جس سے نیا تعلیمی سال شروع ہونے کے باوجود طلبہ و طالبات اور والدین شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہیں۔
مڈل امتحانات سے فارغ ہونے والے طلبہ بازاروں میں کتابوں کی تلاش میں دربدر پھر رہے ہیں جبکہ دکانداروں کی جانب سے کتابیں نہ ہونے کا شکوہ عام ہے۔ کتابوں کی عدم فراہمی کی بنیادی وجہ نویں جماعت اور فرسٹ ایئر کے نصاب میں کی جانے والی تبدیلی بتائی جا رہی ہے، جس کے باعث پنجاب بھر میں کتب کی ترسیل تاخیر کا شکار ہے۔
کتابیں فروخت کرنے والے دکانداروں کا کہنا ہے کہ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے تاحال نئی کتابیں فراہم نہیں کی گئیں، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔
والدین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیمی ضروریات پوری کرنے کے لیے روزانہ کتابوں کی دکانوں کے چکر لگا رہے ہیں لیکن کتابیں نہ ملنے کی وجہ سے انہیں شرمندگی اور پریشانی کا سامنا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو بچوں کا قیمتی تعلیمی وقت ضائع ہو جائے گا، جس کے منفی اثرات ان کے تعلیمی کیریئر پر مرتب ہوں گے۔
عوامی و سماجی حلقوں اور شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات، چیف سیکرٹری پنجاب اور سیکرٹری تعلیم سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نویں اور فرسٹ ایئر کی کتابوں کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ طلبہ کا تعلیمی نقصان روکا جا سکے اور والدین کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ممکن ہو۔


