جہلم: بجلی، گیس کے بڑھتے ہوئے بلوں اور ہوشربا مہنگائی سے عوام عاجز آگئے ، اقتدار کی بندر بانٹ کی بجائے عوامی مسائل حل کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں ،عوامی تائید اسی حکومت کو حاصل ہو گی جو عام لوگوں کو ریلیف فراہم کرے گی۔
ان خیالات کا اظہار شہر کی معروف سیاسی و سماجی شخصیت سید خلیل حسین کاظمی نے اخبار نویسوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا، یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ حکمرانوں نے اقتدار سے پہلے ہی آئی ایم ایف سے قرضوں کی بھیک مانگنا شروع کر دی ۔
انہوں نے کہا ہے کہ حکومتیں اس لیے بنائی جاتی ہیں کہ عوام کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں مگر پاکستان میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے یہاں عوامی مسائل حل کرنے کی بجائے اشرافیہ کی عیاشیوں کے لیے حکومتیں قائم کی جاتی ہیں آئی ایم ایف اور دیگر ملکوں سے قرضہ لے کر غریب عوام کو ریلیف نہیں دیا جا تا بلکہ بالا دست طبقے کو مفت پٹرول ،بجلی ، گیس اس قرضے سے فراہم کردی جاتی ہے۔
سید خلیل حسین کاظمی نے کہا کہ قوم پر مسلط کر پٹ حکمرانوں کی وجہ سے وطن عزیز کی معیشت تباہ و برباد ہو چکی ہے، حکمران آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے اشاروں پر معاشی نظام چلانے کے لیے برسر اقتدار آتے ہیں جبکہ ان کی اپنی کوئی پالیسی نہیں ہوتی اس سے بڑی ہماری بدقسمتی اور کیا ہوگی کہ ابھی حکومت قائم ہی نہیں ہوئی کہ آئی ایم ایف سے قرضے کے لیے رابطے شروع کردیئے گئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بجلی، گیس، پٹرول، پانی کی قیمتوں میں ہو شر باء اضافہ عوام کو زندہ درگور کر رہا ہے۔ غربت اور مہنگائی کے ہاتھوں تباہ حال عوام کی تمام اخلاقی، تہذیبی قدریں تباہ ہو رہی ہیں۔ راہزنی، چوری ڈکیتیوں کی وارداتوں میں اضافہ ہو گیا ہے، عام شہریوں کی زندگیاں غیر محفوظ ہو کر رہ گئیں ہیں۔


