جہلم سمیت ضلع بھر میں ڈاکٹرز کی بھاری فیسوں کے باعث عطائیت فروغ پانے لگی۔
ضلع بھر میں درجنوں کی تعداد میں ڈسپنسر زاور دیگر عطائی ڈاکٹرز، کام کررہے ہیں ، جس کی بڑی وجہ میڈیکل سپیشلسٹ ڈاکٹرز کی جانب سے پرائیویٹ فیسوں میں بے پنا ہ اضافہ ہے ایک میڈیکل سپیشلسٹ ڈاکٹر مریض کو دیکھنے کی فیس کم از کم5سو روپے جبکہ نامور ڈاکٹر زکی فیس 1 ہزار روپے سے15 سو روپے تک وصول کی جارہی ہے۔
اس فیس سمیت مہنگی ادویات کے نسخہ جات جو ڈاکٹرز کی فارما سوٹیکل کمپنیوں کے ساتھ مبینہ ملی بھگت اور میڈیکل ریپس کی جانب سے تجویز کرواتے ہیں اور اس کے عوض ڈاکٹرز کو تحفے تحائف ، بیرون ممالک سیر و تفریح سمیت دیگر مالی امداد کی صورت میں نوازا جاتا ہے۔
ایک عام آدمی جو کہ ہزار 15سو روپے دیہاڑی کماتا ہے اگر اسکا بچہ یا وہ خود بیمار ہو جائے تو وہ 1 ہزار روپے سے15 سو روپے فیس ادا کرنے کے ساتھ ساتھ مہنگی ادویات قرض لیکر خریدنے پر مجبور ہوتا ہے ، جس کیوجہ سے اکثر دیہاڑی دار افراد 100 سے 2 سو روپے فیس ادا کرکے عطائی ڈاکٹروں سے علاج کروانے کو ترجیح دیتے ہیں ، جو انہیں چیک کرنے سمیت ادوایات بھی دیتے ہیں۔
اس طرح عطائیت کو فروغ دینے میں ماہر ڈاکٹرز کا بہت بڑا کردار شامل ہے اگر ماہر ڈاکٹرز اپنی فیسیں کم کرنے اور ادویات ساز کمپنیوں سے مبینہ ملی بھگت کرکے مہنگی ادویات تجویز نہ کریں تو ڈاکٹر سے مقدس پیشہ کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا۔


