Jhelum UpdatesJhelum Updates
  • صفحۂ اول
  • جہلم
  • دینہ
    • منگلا
  • سوہاوہ
    • ڈومیلی
    • پڑی درویزہ
  • پنڈدادنخان
    • کھیوڑہ
    • جلالپور شریف
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • مزید
    • امیگریشن اور سفر
    • لائف اسٹائل
      • دلچسپ و عجیب
      • صحت
    • پاکستان
    • دنیا
    • ٹیکنالوجی
    • کاروبار
    • کھیل
    • تعلیم
    • سیاست
پڑھنا: روزگار کی تلاش میں کمبوڈیا جانے والے پاکستانی جرائم پیشہ گروہوں کے شکنجے میں کیسے پھنسے؟
شیئر کریں
فونٹ سائز تبدیل کریںAa
فونٹ سائز تبدیل کریںAa
Jhelum UpdatesJhelum Updates
  • جہلم
  • دینہ
  • سوہاوہ
  • پنڈدادنخان
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • امیگریشن اور سفر
سرچ
  • صفحۂ اول
  • ضلع جہلمضلع جہلم
    • جہلم
    • دینہ
    • سوہاوہ
    • پنڈدادنخان
    • منگلا
    • ڈومیلی
    • کھیوڑہ
    • جلالپور شریف
    • پڑی درویزہ
  • بک مارکس
    • My Bookmarks
    • Customize Interests
  •  
    • پاکستان
    • اوورسیز پاکستانی
    • امیگریشن اور سفر
    • سیاست
    • کاروبار
    • کھیل
    • دنیا
    • صحت
    • تعلیم
  • کالم و مضامین
  • ٹیکنالوجی
    • موبائل فون
ہمیں فالو کریں
جہلم اپڈیٹس © 2023, تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں

روزگار کی تلاش میں کمبوڈیا جانے والے پاکستانی جرائم پیشہ گروہوں کے شکنجے میں کیسے پھنسے؟

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
30 ستمبر, 2024
شیئر کریں
شیئر کریں

احمد علی کا تعلق پنجاب کے ضلع فیصل آباد سے ہے۔ اُنہوں نے دو ماہ قبل ایک ایجنٹ کو سات لاکھ روپے دے کر کمبوڈیا کا ویزہ حاصل کیا اور اچھے روزگار کی اُمید آنکھوں میں سجائے کمبوڈیا کے لیے روانہ ہو گئے۔

اردو نیوز کی رپورٹ کے مطابق احمد علی کو کمبوڈیا کا ویزہ دیے جانے سے قبل یہ بتایا گیا تھا کہ ’وہاں آئی ٹی کے شعبے میں ملازمت کے بے پناہ مواقع موجود ہیں اور کمپیوٹر پر کچھ ٹاسک پورے کرنا ہوں گے جس کی اُنہیں اڑھائی سے تین لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ دی جائے گی۔‘

احمد علی نے آئی ٹی کی ملازمت ملنے اور پھر ماہانہ اڑھائی سے 3 لاکھ روپے تنخواہ ملنے کی اُمید پر کمبوڈیا کے لیے رختِ سفر باندھا۔ کمبوڈیا پہنچتے ہی مگر اُنہیں ویت نام کی سرحد کے قریب ایک قصبے میں منتقل کر دیا گیا۔

احمد علی نے اُردو نیوز کو بتایا کہ ’وہاں پہنچ کر ہم سے زبردستی کچھ دستاویزات پر دستخط کروائے گئے اور کہا گیا کہ مزید تین سے پانچ لاکھ روپے (پاکستانی) ادا کرو جس کے بعد اُن سمیت وہاں موجود پاکستانیوں اور دیگر ممالک کے شہریوں کو ’ہیکنگ‘ کی کلاسز لینے کا پابند کیا گیا۔‘

احمد علی کی طرح زبیر شاہد بھی ملازمت کی تلاش میں کمبوڈیا پہنچے، تاہم اُنہیں بھی ویت نام کی سرحد کے قریب ایک نامعلوم قصبے میں لے جا کر محصور کر دیا گیا۔

اُنہوں نے اردو نیوز کو بتایا کہ وہ ایک ماہ قبل کمبوڈیا پہنچے ہیں۔ اُنہوں نے بھی صوبہ پنجاب کے ضلع ساہیوال سے لاکھوں روپے ادا کر کے کمبوڈیا کا ویزہ حاصل کیا تھا۔ اُنہیں بھی مقامی ایجنٹ کی جانب سے کمبوڈیا میں آئی ٹی کے شعبے میں ملازمت دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، تاہم کمبوڈیا پہنچ کر وہ بھی غیر قانونی طور پر کام کرنے والی کمپنیوں کے جال میں پھنس گئے۔

احمد علی اور زبیر شاہد کی طرح سینکڑوں پاکستانی شہری اس وقت کمبوڈیا میں ایسے غیر قانونی گروہوں کے شکنجے میں پھنس چکے ہیں۔ لاکھوں روپوں کی ادائیگی کرنے کے باوجود کمبوڈیا میں پھنسے ہوئے ان پاکستانی شہریوں سے مزید رقم ادا کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

اس سارے معاملے کا تشویشناک پہلو یہ ہے کہ کمبوڈیا میں پھنسے پاکستانی شہریوں سے ہیکنگ کا غیر قانونی کام کروایا جا رہا ہے جب کہ احکامات نہ ماننے والے پاکستانی شہریوں کے ساتھ سختی سے پیش آیا جا رہا ہے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے اُردو نیوز سے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’کمبوڈیا میں موجود ہمارے سفارتی مشن نے ان مشکل حالات سے دوچار پاکستانی شہریوں کی واپسی کے لیے اقدامات کیے ہیں اور اُن کی جلد از جلد پاکستان واپسی کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔‘

دفترِ خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ ’مشکل حالات سے دوچار پاکستانی شہریوں کی واپسی کے لیے اقدامات کیے ہیں۔‘ (فوٹو: دفتر خارجہ)

اُن کا کہنا تھا کہ ’جنوری 2023 سے لے کر اب تک ایسے 90 پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی کو ممکن بنایا جا چکا ہے۔‘

کمبوڈیا میں پھنسے پاکستانی شہری

پاکستان سے ہر سال لاکھوں شہری اچھے روزگار کے حصول کے لیے بیرون ممالک کا رُخ کرتے ہیں۔ ان شہریوں کی ایک بڑی تعداد غیر قانونی ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے کسی دوسرے ملک پہنچتی ہے یا قانونی طور پر بیرون ملک جانے کے باوجود وہاں کام کرنے والے جرائم پیشہ گروہوں کے ہتھے چڑھ جاتی ہے۔

یورپ اور امریکہ جانے والے شہریوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے سبب اب پاکستانی شہری کچھ ایسے ممالک کا رُخ کر رہے ہیں جہاں ملازمت کے مواقع کم ہونے کے ساتھ ساتھ غیر قانونی گروہ بھی غیرمعمولی طور پر متحرک ہیں جو تارکینِ وطن سے غیرقانونی کام لیتے ہیں۔

حالیہ کچھ عرصہ کے دوران مشرقی اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک میں جانے والے پاکستانی شہریوں سے متعلق یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ وہاں قانونی طور پر جانے کے باوجود پاکستانی شہری جرائم پیشہ عناصر کے شکنجے میں پھنس چکے ہیں۔

ان ممالک میں میانمار، تھائی لینڈ اور منگولیا کے کچھ علاقے شامل ہیں۔ تاہم اُردو نیوز کو موصول معلومات کے مطابق ان ریاستوں میں سے اس وقت سب سے زیادہ پاکستانی شہری کمبوڈیا میں پھنسے ہوئے ہیں اور وہ مختلف جرائم پیشہ گروہوں میں کام کرنے پر مجبور کر دیے گئے ہیں۔

ایسی تنظیمیں اور گروہ نہ صرف پاکستانی شہریوں سے مزید رقم کا مطالبہ کرتے ہیں بلکہ ہیکنگ جیسے غیر قانونی کام بھی کروا رہے ہیں۔

کمبوڈیا میں پھنسے پاکستانی شہریوں نے اُردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’گذشتہ دو، تین ماہ سے ایسے گروہوں کے لیے کام کر رہے ہیں۔‘

کمبوڈیا میں غیر قانونی کمپنیاں کیسے کام کرتی ہیں؟

پاکستان کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ’مشرقی اور جنوب مشرقی ایشیائی ریاستوں میں کچھ ایسی غیر قانونی تنظیمیں یا کمپنیاں کام کر رہی ہیں جو حکومت کے دائرہ کار میں بھی نہیں آتیں۔ ایسی کمپنیاں پاکستان سمیت مختلف ممالک سے بے روزگار نوجوانوں کو ملازمت کا جھانسہ دے کر بلاتی ہیں اور پھر اپنے شکنجے میں پھنسا لیتی ہیں۔‘

روزگار کی تلاش میں جنوب مشرقی ایشیائی ریاست کمبوڈیا جانے والے پاکستانی شہریوں کا کہنا ہے کہ ’پاکستان سے ٹریول ایجنٹس کے ذریعے ان پاکستانی شہریوں کو کمبوڈیا لایا جا رہا ہے جنہیں یہ بتایا جاتا ہے کہ کمبوڈیا میں آئی ٹی کی کمپینوں کو نوجوانوں کی ضرورت ہے مگر یہاں پہنچنے پر صورتِ حال یکسر مختلف ہوتی ہے۔‘

ان کمپنیوں نے ان مخصوص علاقے کے اندر ہی رہائش، کھانے پینے سمیت دیگر تمام انتظامات کیے ہوئے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے کہا کہ ’ہم جب کمبوڈیا پہنچے تو ہمیں فوری طور پر ویت نام کی سرحد کے قریب ایک قصبے میں منتقل کر دیا گیا جہاں ایسی کمپنیوں نے اپنے دفاتر قائم کیے ہوئے ہیں۔ ان کمپنیوں نے ان مخصوص علاقے کے اندر ہی رہائش، کھانے پینے سمیت دیگر تمام انتظامات کیے ہوئے ہیں۔ تاہم بیرونِ ممالک سے آئے شہریوں کو مختلف بلاکس تک ہی محدود رکھا جاتا ہے جب کہ اُنہیں تشدد کا نشانہ بھی بنایا جا رہا ہے۔‘

کمبوڈیا میں موجود پاکستانی سفارت خانہ ایسے شہریوں کی بازیابی کے لیے کوشاں ہے: دفتر خارجہ

پاکستان کی وزارت خارجہ نے اُردو نیوز کے سوالات پر جاری اپنے اعلامیے میں بتایا ہے کہ ’کمبوڈیا سمیت کچھ دیگر ممالک میں بعض ایسے جرائم پیشہ گروہ کام کر رہے ہیں جو بیرونِ ممالک سے شہریوں کو ملازمت کا جھانسہ دے کر بلاتے ہیں اور پھر اُنہیں اپنے مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔‘

اُنہوں نے سینکڑوں پاکستانی شہریوں کے کمبوڈیا میں پھنسے ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’دفتر خارجہ کے ریکارڈ کے مطابق صرف چند پاکستانی ہی ایسے گروہوں کے شکنجے میں ہیں جن کی وطن واپسی کے لیے ہمارا سفارتی مشن کام کر ریا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’موجودہ دور میں انسانی اسمگلنگ اور ان میں ملوث بین الاقوامی گروہوں کے سدِباب کے لیے مربوط بین الاقوامی ردعمل کی ضرورت ہے۔ ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے خطے کے ممالک کے ساتھ مل کر کام کریں گے کہ ان جرائم پیشہ گروہوں کا شکار ہونے والے پاکستانی شہریوں کو رہا کر کے پاکستان واپس لایا جائے۔’

دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ’روزگار کی تلاش میں بیرونِ ملک جانے والے شہری اس بات کو یقینی بنائیں کہ اُنہیں ملازمت کی پیشکش کرنے والی کمپنی کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث تو نہیں ہے۔‘

یہ مضمون شیئر کریں
Facebook Flipboard Pinterest Whatsapp Whatsapp Reddit Telegram لنک کاپی کریں
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ہمیں فالو کریں

FacebookLike
XFollow
PinterestPin
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
TiktokFollow
WhatsAppFollow
LinkedInFollow
SnapchatSubscribe
ThreadsFollow
BlueskyFollow
Weather
23°C
Jhelum
few clouds
23° _ 23°
47%
3 km/h
پیر
23 °C
منگل
33 °C
بدھ
33 °C
جمعرات
34 °C
جمعہ
34 °C

تازہ ترین

جہلم: زرعی شعبے کی بہتری اور کاشتکاروں کے مسائل کا حل اولین ترجیح ہے، علیزہ ریحان
19 اکتوبر, 2026
جہلم پولیس کے ضلع بھر میں سرچ آپریشن، 439 افراد کی چیکنگ، دو ملزمان گرفتار
19 اکتوبر, 2026
جہلم میں ایل پی جی کی قیمتیں بے قابو، فی کلو 480 روپے تک فروخت
19 اکتوبر, 2026
جہلم: عوامی مسائل کا حل، محکموں کے درمیان رابطہ کاری اور جاری اقدامات کی نگرانی اولین ترجیح ہے، ڈپٹی کمشنر میر رضا اوزگن
19 اکتوبر, 2026
جہلم: بارانی علاقوں میں گندم کی کاشت کے لیے کھادوں کے استعمال سے متعلق سفارشات جاری
19 اکتوبر, 2026

شاید آپ یہ بھی پڑھنا پسند کریں

کام کے ساتھ رہائشی پرمٹ کےلیے ڈنمارک کی نئی شرط کیا ہے؟

23 دسمبر, 2024

متحدہ عرب امارات نے پاکستانیوں کے لیے نئی ویزہ فیس کا اعلان کردیا

1 جولائی, 2024

برطانوی شہریت کے حصول کی مدت کم کرنے پر زور، سب سے زیادہ فائدہ پاکستانیوں کو ہوگا

20 ستمبر, 2024

حج سیزن کے اختتام اور گرمی کی وجہ سے عمرہ پیکج کی قیمت میں نمایاں کمی

10 جولائی, 2024

اشتہارات اور خبروں کیلئے جہلم اپڈیٹس سے رابطہ کریں۔

  • [email protected]
  • [email protected]
تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں Follow us on Google News
  • Contact Us
  • Privacy Policy
  • Terms & Condition
  • About Us
  • Home

About US

The Largest News Network of Jhelum, Pakistan.
Quick Link
  • جہلم
  • دینہ
  • سوہاوہ
  • پنڈدادنخان
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • امیگریشن اور سفر

Subscribe US

Subscribe to our newsletter to get our newest articles instantly!

[mc4wp_form]
Jhelum UpdatesJhelum Updates
ہمیں فالو کریں
جہلم اپڈیٹس © 2023, تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں