لندن: حکومتی وزرا ٹوری رکن پارلیمنٹ لی انڈرسن کے صادق خان سے متعلق تبصرے کو اسلاموفوبک قرار نہ دیکر دائیں بازو کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں۔
اس بات کا اظہار حکومت کے سابق انڈی پینڈنٹ اسلاموفوبیا ایڈوائزر امام قاری عاصم نے کیا ہے۔ ایک انٹرویو میں ان کاکہنا تھا کہ کنزرویٹو پارٹی کی سینئر قیادت کی طرف سے لی اینڈرسن کے تبصرے کو اسلاموفوبک نہ کہنے پر انہیں مایوسی ہوئی ہے اور انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ پارٹی نے مسلم مخالف نفرت سے نمٹنے کے حوالے سے مسلم کمیونٹی کا اعتماد کھو دیا ہے۔
امام قاری عاصم نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ حکومت انڈی پینڈنٹ اسلاموفوبیا ایڈوائزر کا تقرر کرے۔ واضح رہے کہ ٹوری رکن پارلیمنٹ لی اینڈرسن کو پارٹی نے ان کے اس دعویٰ کے بعد معطل کر دیا تھا کہ اسلام پسندوں نے میئر لندن صادق خان کے ذریعے لندن کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے ۔ ان کے ان الفاظ کی وزرا نے مذمت کی تھی لیکن ان کے علاوہ وزیراعظم رشی سوناک نے بھی ان الفاظ کو اسلاموفوبک قرار دینے سے انکار کر دیا تھا۔
سابق ٹوری منسٹر رحمٰن چشتی نے بھی کہا ہے کہ کسی تبصرے کی درجہ بندی کا اختیار سیاست دانوں کی بجائے انڈی پینڈنٹ ایڈوائزر کے پاس ہونا چاہئے۔ انہوں نے جلد ایڈوائزر کے تقرر کا مطالبہ بھی کیا۔
امام قاری عاصم نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ان کا تقرر سابق وزیراعظم ٹریزا مے نے اپنی وزارت عظمیٰ کے آخری دور میں کیا تھا اور اسی وقت سابق لیبر رکن پارلیمنٹ جان میت کا تقرر یہودی مخالف سرگرمیوں سے نمٹنے کیلئے کیا گیا جنہیں آفس اور دیگر وسائل فراہم کئے گئے لیکن ان کےپاس اپنے کام کے حوالے سے ریفرنس حاصل کرنے کی سہولت بھی نہیں تھی۔ اس بارے میں متعدد بار 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کو یاد دلایا لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔ لاک ڈاؤن کے بعد دوبارہ کام شروع کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی تعاون نہیں ملا۔
انہوں نے کہاکہ پوری کنزرویٹو پارٹی تو نہیں لیکن اس میں چند ایسے عناصر موجود ہیں جو نہیں چاہتےکہ ملک میں مسلم مخالف نفرت کے پیمانے کو تسلیم کیا جائے۔ امام قاری عاصم کو جون 2022 میں پیغمبر اسلام کی صاحبزادی کے بارے میں ایک متنازع فلم کے خلاف احتجاج کی تفصیلات شیئر کرنے پر عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ وہ آزادی اظہار کو دبانے کی کوشش کر رہے ہیں جس کی قاری عاصم نے تردید کی تھی۔
قاری عاصم کے مطابق ان کو برطرفی کے حوالے سے میڈیا کے ذریعے پتہ چلا کیونکہ ذمہ داران نے انہیں بتانے تک کی زحمت نہیں کی اور حکومتی ویب سائٹ پر برطرفی کا خط لگا دیا، جبکہ حکومتی ذرائع کے مطابق خط قاری عاصم کو ای میل کئے جانے کے بعد ویب سائٹ پر لگایا گیا۔
قاری عاصم نے کہا کہ اسلاموفوبیا کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہ ہونے پر انہیں قربانی کا بکرا بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت انڈی پینڈنٹ ایڈوائزر کا تقرر کرکے اس مسئلہ پر گرفت حاصل کرے اور اسلاموفوبیا کی تشریح کا تعین کرکے ہمیشہ کیلئے اس مسئلہ کو حل کر دے۔ انہوں نے لی اینڈرسن کے تبصرے کو نسل پرستانہ، جارحانہ اور اسلاموفوبک قرار دیا۔
حکومتی ترجمان نے کہا ہے کہ 7 اکتوبر کے حملے کے بعد مسلم مخالف نفرت سے نمٹنے کیلئے اہم اقدامات کئے گئے ہیں اور عبادت گاہوں کو محفوظ بنانے کیلئے اضافی 4 اعشاریہ 9 ملین پاؤنڈ کی رقم فراہم کی گئی ہے۔


