برطانیہ میں مقیم خاندان پاکستانی دلہن پر تشدد اور استحصال کا ذمہ دار قرار

مانچسٹر: برطانیہ میں مقیم ایک پاکستانی خاندان کو پاکستانی دلہن کو بدترین جسمانی تشدد کا نشانہ بنانے اور اس کا کئی سال تک استحصال کرنے کا ذمہ دار قرار دے دیا گیا۔

خاندان کے افراد پر الزام تھا کہ انہوں نے پاکستانی دولہن کو برطانیہ میں خاندان کے دیگر افرادکی توقعات پر پورا نہ اترنے کی پاداش میں جسمانی اورذہنی تشد دکا نشانہ بنایا، اسے زبردستی گولیاں کھلائیں، اس پر کیمیکل ڈالاگیا،خاتون کو اس کی طے شدہ شادی کیلئے پاکستان سے برطانیہ بھیج دیا گیا تھا جہاں وہ مسلسل بدسلوکی کا نشانہ بنتی رہی۔

عنبرین فاطمہ شیخ بغیر مدد کے سانس تک لینے سے قاصر ہے، اسے ناقابل تلافی دماغی نقصان پہنچا جس کی وجہ سے وہ اپنے اردگرد کی دنیا کا کوئی شعور نہیں رکھتی، برطانوی عدالت میں معاملے کی شنوائی کے دوران عدالت کوبتایا گیا کہ عنبریں ممکنہ طو رپر کسی کیمیائی مادے کا شکار ہوئی اور اسے خطرناک دوا دے کر مارنے کی بھی کوشش ہو سکتی ہے، بند دروازوں کے پیچھے بالکل وہی ہوا جو غیر یقینی ہے کیونکہ خاندان کی صف بندیاں تھیں اور ان میں سے کسی نے بھی لیڈز کراؤن کورٹ میں اپنے دفاع میں ثبوت نہیں دیا۔

برطانیہ میں اپنے شوہر سے ملنے سے قبل عنبریں تعلیم یافتہ اورخوش شکل خاتون تھی لیکن وہ انگریزی کم بولتی تھی، ایک بار وہ ہڈرز فیلڈ میں بمشکل گھر سے نکلی تھی، اگلے دروازے کے پڑوسیوں نے انکشاف کیا کہ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ وہ نو ماہ تک وہاں رہ رہی ہے، عدالت نے 38 سالہ خاتون کی حالت کے بارے میں ممکنہ وضاحت سنی کہ اس نے اپنی ذیابیطس کی مریضہ ساس کیلئے تجویز کردہ گولیاں نگل لیں جس کے نتیجے میں ہائپوگلیسیمک حملہ ہوا،ایسی گولیاں انتہائی خطرناک ہوتی ہیں، انہیں چھوٹے بچوں کیلئے قاتل گولی کہا جاتا ہے۔

استغاثہ نے کہا کہ گولیاں رضاکارانہ طور پر نہیں لی گئی تھیں، سماجی طور پر الگ تھلگ اور کمزور عنبرین کو ہڈرز فیلڈ، ویسٹ یارکشائر میں چھت والے مکان کے بند دروازوں کے پیچھے تشدد کا کئی بار نشانہ بنایا گیا، اس نے یہ سب اپنے والدین کی ساتھ اس کو شیئر بھی کیا تھا۔عنبرین کو بے ہوشی کی حالت میں ہسپتال لے جانے سے چند دن پہلے اس کی کمر کے نچلے حصے پر ایک بڑا سیاہ زخم کاسٹک کیمیکل کی وجہ سے ہوا تھا۔

گھر کا کوئی بھی فرد جو جسمانی زیادتی میں ملوث نہیں ہے ا سے بھی خطرہ تھا کہ زخمی عنبرین کو اے اینڈ ای میں لے جانے سے سوالا ت جنم لیں گے اور تفتیش شروع ہو جائے گی۔ پولیس کو اس وقت الرٹ کر دیا گیا، ہسپتال کے ڈاکٹرز نے خدشہ ظاہر کیا کہ عنبرین کی چوٹیں مشکوک ہیں، نرسوں کو اس امرکا بھی خدشہ تھا کہ وہ ظاہری شکل سے غذائی قلت کا شکار لگتی ہے۔

عنبرین کو ابتدائی طور پر لائف سپورٹ مشین پر رکھا گیا جب وینٹی لیٹر بند کیا گیا تو عنبرین سانس لینے کے قابل تھی لیکن اگست 2015سے اس کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، پولیس نے گھر میں رہنے والے خاندان کے پانچوں افراد سے پوچھ گچھ کی اور کسی نے بھی اس کی وضاحت نہیں کی کہ اصل میں کیا ہوا ہے، عنبرین نومبر 2014میں پاکستان میں طے شدہ شادی کے بعد 2013میں اصغر سے جو، اب 31سال کے ہیں، سے شادی کے بعد برطانیہ آئی تھیں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button