جہلم: جامعہ علوم اثریہ جہلم میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے 23واں سالانہ فری آئی کیمپ کامیابی کے ساتھ مکمل ہو گیا۔
ایک ہفتے پر مشتمل اس کیمپ میں ہزاروں افراد کا باوقار انداز سے طبی معائنہ کیا گیا جبکہ سینکڑوں مستحق مریضوں کے کامیاب آپریشنز بھی انجام دیے گئے۔ کیمپ کے آخری دن فالو اَپ چیک اپ میں مریضوں کے آپریشنز کو تسلی بخش قرار دیا گیا۔
جامعہ علوم اثریہ کے مہتمم اور مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے نائب امیر حافظ عبدالحمید عامر نے اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس کیمپ کے کامیاب انعقاد پر میں ضلع جہلم کے عوام کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ جامعہ علوم اثریہ کا سالانہ فری آئی کیمپ پنجاب بھر میں اپنی نوعیت کا ایک منفرد اور مثالی پروگرام ہے، جس سے نہ صرف ضلع جہلم بلکہ قریبی تحصیلوں کے عوام بھی بھرپور انداز سے مستفید ہوتے ہیں۔
حافظ عبدالحمید عامر نے مزید کہا کہ کیمپ میں بین الاقوامی شہرت یافتہ ماہرین چشم اور سرجنز نے اپنی خدمات رضاکارانہ طور پر سرانجام دیں، اور الحمد للہ کئی سالوں سے یہ فری آپریشنز مسلسل کامیابی سے جاری ہیں۔ اسلام نے خدمت خلق کا ایک جامع اور منظم نظام پیش کیا ہے، جس کی نظیر دنیا کے کسی اور مذہب یا فلسفے میں نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام نے اخوت، مودت، صلہ رحمی اور ہمدردی جیسے عظیم انسانی جذبات پر بڑی تفصیل سے ہدایات جاری کی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آج کے دور میں خدمت خلق کے حوالے سے مختلف انتہاؤں کا سامنا ہے۔ کچھ لوگ صرف حقوق اللہ پر زور دیتے ہیں اور حقوق العباد کو نظر انداز کر دیتے ہیں، جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ انسانیت کی خدمت ہی دین کا اصل مقصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ راہِ اعتدال یہی ہے کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کو یکساں اہمیت دی جائے اور ان پر مکمل عمل کے ذریعے ہی اسلام کا حقیقی چہرہ دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے۔
اختتامی خطاب میں انہوں نے کہا کہ جامعہ کے اساتذہ، طلباء، اہل حدیث یوتھ فورس اور جہلم کے عوام نے کیمپ کے دوران مہمانوں، مریضوں اور ان کے لواحقین کی خدمت نہایت منظم اور شاندار انداز میں کی، جس سے یہ پیغام واضح ہوتا ہے کہ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ خدمتِ انسانیت بھی ہمارا نصب العین ہے۔ انہوں نے تمام رضا کاروں اور معاونین کو خراج تحسین پیش کیا اور کیمپ کی کامیاب تکمیل پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔


