جہلم: ضلع جہلم میں دریائے جہلم میں نہانے پر دفعہ 144 نافذ ہونے کے باوجود اس پر مؤثر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث ایک اور نوجوان جان کی بازی ہار گیا۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ دنوں جہلم میں تھانہ صدر کے علاقے کولپور کے قریب 21 سالہ نوجوان مہر رحیم اپنے دوستوں کے ہمراہ دریائے جہلم میں نہا رہا تھا کہ اچانک گہرے پانی میں چلا گیا اور ڈوب کر جاں بحق ہو گیا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی غوطہ خور ٹیم موقع پر پہنچ گئی۔ ریسکیو اہلکاروں نے بھرپور سرچ آپریشن کے بعد نوجوان کی لاش نکال کر ضروری قانونی کارروائی مکمل کی، جس کے بعد میت ورثاء کے حوالے کر دی گئی۔
واضح رہے کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دریائے جہلم میں نہانے پر دفعہ 144 نافذ ہے، تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ اس پابندی پر مؤثر عملدرآمد نظر نہیں آتا۔ روزانہ درجنوں نوجوان مختلف مقامات پر دریائے جہلم میں نہاتے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ متعلقہ اداروں کی جانب سے نگرانی نہ ہونے کے باعث ایسے افسوسناک واقعات بار بار پیش آ رہے ہیں۔
عوامی و سماجی حلقوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر پابندی پر مؤثر انداز میں عملدرآمد کرایا جائے، خطرناک مقامات پر پولیس اور ریسکیو اہلکار تعینات کیے جائیں، حفاظتی باڑ اور انتباہی بورڈ نصب کیے جائیں تو قیمتی انسانی جانوں کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔
شہریوں نے ڈپٹی کمشنر جہلم، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ دریائے جہلم میں نہانے پر عائد پابندی پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے، حساس مقامات پر مؤثر نگرانی بڑھائی جائے اور حفاظتی اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے المناک واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔


